الجزیرہ کا ویڈیو نشر نہ کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

عرب ٹی وی چینل الجزیرہ نے فرانس میں سات افراد کی ہلاکت میں ملوث محمد مراح کی فلمائی ہوئی ویڈیو نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فرانسیسی شہر تولوز میں بتیس گھنٹے کے محاصرے کے بعد ہلاک کیے جانے والے محمد مراح نے سات افراد کو ہلاک کرنے کے دوران یہ ویڈیو خو بنائی تھی۔

پولیس کو یقین ہے کہ یہ ویڈیو فلم محمد مراح کے ساتھی نے الجزیرہ ٹی وی نیٹ ورک کو بھیجی ہے۔

فرانسیسی صدر نکلولس سرکوزی نے اپیل کی تھی کہ ویڈیو کو نشر نہ کیا جائے۔

فرانسیسی صدر نے الجزیرہ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے عزم کیا ہے کہ اگر کسی دوسرے میڈیا نیٹ ورک نے اس ویڈیو کو نشر کرنے کی کوشش کی تو اس کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

قطر سے نشریات پیش کرنے والے الجزیرہ نے اپنے فیصلے پر کہا ہے کہ’ پیرس میں اس کے دفتر کو پیر کے روز نامعلوم ذرائع سے یہ ویڈیو وصول ہوئی تھی اور اس ویڈیو کا عنوان ’القاعدہ کے فرانس میں حملے‘ تھا اور ویڈیو میں حال ہی میں فرانس میں سات ہلاکتوں کے واقعے کی ویڈیو تھی۔‘

’اس ویڈیو کے مواد کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر اس کو فرانسیسی پولیس کے حوالے کر دیا جو کہ ہماری ذمہ داری تھی اور پولیس اس کی تفتیش کر رہی ہے۔‘

الجزیرہ کا کہنا تھا کہ ویڈیو کی کاپی حاصل کرنے کے لیے اسے دیگر میڈیا نیٹ ورکس سے متعدد درخواستیں موصول ہوئیں لیکن انہیں مسترد کر دیا گیا۔

یہ ویڈیو ایک یو ایس بی ڈیوئس میں تھی اور اس میں’ القاعدہ کے نام پر حملے‘ کے نام کا ایک نوٹ بھی تھا، یہ ویڈیو بدھ کو اس وقت پوسٹ کی گئی جب تئیس سالہ محمد مراح پولیس کے محاصرے میں تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ویڈیو تولوز سے باہر کسی جگہ سے پوسٹ کی گئی تھی۔

پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار کرسٹین فریسر کا کہنا ہے کہ اب پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا محمد مراح نے انٹرنیٹ کے ذریعے اس ویڈیو کو پوسٹ کیا تھا یا بذات خود اس کو بھیجا تھا۔‘

نامہ نگار کے مطابق محمد مراح کے تولوز میں واقع فلیٹ سے اصل مواد برآمد ہوا تھا جس سے ظاہر ہے کہ ویڈیو کو کاپی کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے گزشتہ روز منگل کو فرانس میں عدالتی ذرائع کے مطابق محمد مراح کے بھائی عبدالقادر مراح پر قتل کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ انتیس سالہ عبدالقادر مراح پر قتل کی سازش اور چوری، دہشت گردی میں ملوث ہونے کا شبہ ہے اور اس کو حراست میں رکھا جائے گا۔

عبدالقادر مراح نے الزامات کو مسترد کیا ہے تاہم ان کے مطابق جب حملوں کے لیے ان کے بھائی نے سکوٹر چوری کی تھی تو اس وقت وہ وہاں موجود تھے۔

اس کے علاوہ انھوں اس بیان کو مسترد کیا ہے جس کے مطابق انھیں اپنے بھائی کے اقدام پر فخر ہے۔

عبدالقادر مراح کے وکیل کے مطابق ’عبدالقادر مراح نے سختی سے اپنے بھائی کے اقدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی بھی طور پر اپنے بھائی کے اقدام پر فخر محسوس نہیں کرتے ہیں۔‘

سات افراد کی ہلاکت میں مطلوب محمد میرہ کو پولیس کے سنائپر نے بتیس گھنٹے کے محاصرے کے بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں