’سینکڑوں افغان عورتیں اخلاقی جرائم پر قید‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رجعت پسندوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں عورتوں کے حقوق کو پسِ پشت ڈالنے کا حکومتی رویہ بڑھتا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سینکڑوں افغان عورتیں گھروں سے بھاگنے اور شادی کے علاوہ جنسی تعلقات جیسے اخلاقی جرائم کے باعث جیلوں میں ہیں۔

اس سلسلے میں جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیلوں میں قید یہ عورتیں ناروا سلوک اور تشدد کے باعث گھر چھوڑنے پر بھی سزائیں کاٹ رہی ہیں۔ ان میں کچھ ایسی بھی ہیں جو خود جنسی زیادتی کا شکار ہوئی تھیں۔

شادی کے باوجود جنسی تعلق چاہے اس میں عورت کو مجبور کیا گیا ہو جرم تصور کیا جاتا ہے اور اخلاقی جرم میں شمار ہوتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر حامد کرزئی کی حکومت حقوق انسانی کے عالمی قوانین کے اطلاق کی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ کا کہنا کہ ’طالبان کی حکومت ختم ہوئے دس سال گذر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی گھریلو تشدد اور جبری شادی کے باعث گھروں سے بھاگنے والی لڑکیوں اور عورتوں کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے‘۔

رپورٹ میں ان چار سو لڑکیوں کو رہا کرنے کے لیے کہا گیا ہے کہ جو کم عمری کے باعث جیلوں میں بند ہیں۔

کہا گیا ہے کہ ’ان میں سے کچھ لڑکیاں تو ایسی بھی ہیں جنہیں شادی شدہ ہوتے ہوئے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد ناجائز جنسی تعلق میں ملوث کیا گیا یا جسم فروشی پر مجبور کر دیا گیا‘۔

رپورٹ کے مطابق ’اکثر اوقات جج محض اعترافی بیان کی بنا پر اور وکیلِ صفائی کے بغیر سزائیں سنا دیتے ہیں اور یہ اعترافی بیان ایسے تحریری بیان ہوتے ہیں جن پر ملزمات کے دستخط انہیں بیان سنائے اور سمجھائے بغیر لیے جاتے ہیں جب کہ یہ لڑکیاں یا عورتیں نہ تو پڑھ سکتی اور نہ لکھ سکتی ہیں‘۔

ان عورتوں کو لمبی سزائیں سنائی جاتی ہیں اور بعض مقدموں میں تو وہ دس دس سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

کہا گیا ہے کہ اس صورتِ حال میں مزید خرابی اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ صدر حامد کرزئی عورتوں کے حقوق پر اپنا موقف اکثر تبدیل کرتے رہتے ہیں۔

وہ عورتوں کے حقوق کے معاملے پر ملک میں رجعت پسند لوگوں کے مقابل نہ تو واضح موقف اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی اہلیت رکھتے ہیں، بلکہ اس کے برخلاف اکثر اوقات مصلحت کوشی سے کام لیتے ہیں جس کا عورتوں کے حقوق پر منفی اثر پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طالبان کے بعد سے یہ تو ہوا ہے کہ سکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد بڑھی ہے اور عام زندگی میں ان کی شرکت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں صدر کرزئی نے ایک ایسے ’ضابطۂ اخلاق‘ کی توثیق کی جسے با اثر علما کی ایک کونسل نے منظور کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بعض حالات میں شوہروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی بیویوں کی پٹائی کریں۔

بی بی سی کی ایملی بیوکینن کا کہنا کہ 2001 میں طالبان کے خلاف مغربی فوجی مداخلت کا ایک سبب عورتوں کے حقوق کی خلاف ورزی بھی تھا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے یہ تو ہوا ہے کہ سکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد بڑھی ہے اور عام زندگی میں ان کی شرکت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

لیکن ان حقوق کے لیے سرگرم حلقوں کا کہنا ہے کہ رجعت پسندوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں عورتوں کے حقوق کو پسِ پشت ڈالنے کا حکومتی رویہ بڑھتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں