ایران، شام تنازعات: ’حل مذاکرات کے ذریعے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دلی میں برکس کا چوتھا سربراہی اجلاس جاری ہے

دنیا کی پانچ ابھرتی ہوئی طاقتوں کی تنظیم ’برکس‘ نے کہا ہے کہ شام اور ایران میں جاری تنازعات کو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

اس تنظیم میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ دلی میں چوتھے سربراہی اجلاس کے اختتام پر اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں تنازعات کا پائیدار حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پرگرام پر جاری تعطل لڑائی کی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے ’تباہ کن مضمرات‘ ہوں گے اور یہ کہ شام میں جاری خونریزی کو صرف ’پر امن طریقوں‘ سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔

برکس ممالک دنیا کی تقریباً چالیس فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لیکن مبصرین کے مطابق اگرچہ اس تنظیم میں بڑی اقتصادی طاقتیں شامل ہیں لیکن رکن ممالک کے متضاد سیاسی نظریات کی وجہ سے عالمی سطح پر ان کی بات کو وہ وزن حاصل نہیں ہے جو ہونا چاہیے۔

پانچوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ ترقیاتی بینک تشکیل دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا جس کا بظاہر مقصد یہ ہے کہ مغربی ممالک کی قیادت والے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے ایک متوازی نظام قائم کیا جاسکے۔

یہ بینک ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے کے پراجیکٹوں کے لیے فنڈز فراہم کرے گا لیکن یہ تجویز ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ مسٹر جیکب زوما نے کہا کہ اس بنک کی تشکیل سے افریقہ میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

اجلاس میں برازیل کی صدر ڈیلما روسائیف، روس کے صدر ڈمٹری میدویدیف، جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما اور چین کے صدر ہو جنتاؤ نے شرکت کی۔

اعلامیہ کے مطابق پانچوں رہنماؤں نے شام میں قیام امن کے لیے اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے تجویز کردہ منصوبے کی حمایت کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم نے ایسے سیاسی تنازعات سے بچنے کی بھی ضرورت پر زور دیا جن سے تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے تعاون میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں