مراح کے والد فرانسیسی پولیس پر مقدمہ کریں گے

محمد بن علال تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption محمد بن علال کا خیال ہے کہ ان کے بیٹے کا قتل کیا گیا ہے۔

فرانس کے شہر تولوز میں سات افراد کو ہلاک کرنے والے تیئیس سالہ نوجوان محمد مراح کے والد ایک الجيريائی وکیل کی مدد سے فرانس کی پولیس پر اپنے بیٹے کے قتل کا مقدمہ درج کرنے والے ہیں۔

مراح پر الزام ہے انہوں نے ایک ہفتے پہلے تین بچوں سمیت سات افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ جس کے بعد میں پولیس نے ان کے گھر کا محاصرہ کرکے ایک کارروائی میں انہیں ہلاک کر دیا تھا۔

الجيريا میں رہنے والی وکیل ذاہيہ مختاري نے فرانس کے میڈیا کو بتایا کہ مراح کے والد محمد بن علال کا خیال ہے کہ ان کے بیٹے کا قتل کیا گیا ہے۔

محمد بن علال کی طرف سے پولیس پر مقدمہ درج کرنے کے فیصلے کی فرانس کے رہنماؤں نے مذمت کی ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ ایلن جپ نے کہا کہ ’ اگر میں ایسے حیوان کا باپ ہوتا، تو شرم سے اپنا منہ بند رکھتا۔‘

بن علال کی طرف سے مقرر وکیل ذاہیہ مختاری نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ فرانس اور الجيريا کے درمیان ہوئے ایک معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے وکلاء کو اس بات کی اجازت حاصل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ملک میں جا کر مقدمہ لڑ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption محمد مراح بائیس مارچ کو تولوز میں واقع اپنے فلیٹ میں اس وقت ہلاک ہوئے جب پولیس نے ان کے گھر کا مسلسل بتیس گھنٹے تک حصار کیے رکھا۔

مختاری کا کہنا تھا ’ بن علال مراح منگل کو ہمارے دفتر آئے تھے۔انہوں نے ہم سے باضابطہ طور پر کہا ہے کہ ہم ان کی طرف سے فرانس کی سکیورٹی سروس پر محمد مراح کو گرفتار کرنے کی کوشش کرنے اور بعد میں اس کی قتل کی کارروائی کے دوران قوانین کو نظر انداز کرنے کے لئے مقدمہ درج کریں۔‘

محمد مراح بائیس مارچ کو تولوز میں واقع اپنے فلیٹ میں اس وقت ہلاک ہوئے جب پولیس نے ان کے گھر کا مسلسل بتیس گھنٹے تک حصار کیے رکھا۔ مراح پر الزام تھا کہ انہوں نے دو الگ الگ حملوں میں تین فوجیوں اور یہودیوں کے اسکول کے ایک استاد اور تین طلباء کی گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

مراح کی پیدائش فرانس میں ہوئی تھی تاہم ان کے والدین الجیریا سے تعلق رکھتے ہیں۔ محمد مراح نے مبینہ طور پر پولیس کو بتایا تھا کہ وہ فلسطینی بچوں کا بدلہ لینا چاہتے تھے اور دوسرے ممالک کے معاملے میں دخل اندازی کرنے کے لئے فرانس کی فوج کو سبق سکھانا چاہتے تھے۔

الجيريا میں رہائش پذیر مراح کے سوتیلے بھائی رشید مراح کے مطابق فرانس کے خفیہ محکمہ نے بڑی چالاکی سے مراح کا استعمال کیا ہے اور اس کے بھائی کا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

رشید مراح کا کہنا ہے کہ ’میں سرکاری طور پر اس الزام سے انکار کرتا ہوں کہ میرے بھائی محمد مراح کا شدت پسند تنظیم القاعدہ یا کسی دوسری دہشت گرد تنظیم سے کسی طرح کا کوئی تعلق تھا، اور یہ سچ اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ فرانس کی پولیس نے اسے عدالت میں اپنی بات کہنے کا موقع دیے بغیر اسے مار ڈالا جبکہ وہ چاہتے تو اسے زندہ بھی پکڑ سکتے تھے۔‘

محمد مراح کا خاندان انہیں الجيريا میں دفنانا چاہتا تھا لیکن الجيريا کے حکام نے ان کے اس اصرار کو رسمی طور پر قبول نہیں کیا تھا۔

اسی بارے میں