امن منصوبے پر عملدرآمد کیلیے شام پر دباؤ

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بغداد میں عرب لیگ کے اجلاس کے موقع پر امریکہ نے عرب لیگ کے امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے شام پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان عرب لیگ کی جانب سے امن منصوبہ لے کر شام گئے تھے جس کے مطابق لڑائی زدہ علاقوں تک اقوامِ متحدہ کے مبصرین کی رسائی، شامی فوجوں کی واپسی اور انسانی امداد کی فراہمی شامل تھی۔

منگل کے روز شام نے اس منصوبے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم شام میں اب بھی تشدد کی کارروائیاں جاری ہیں۔

بغداد میں ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں شام کا مسئلہ سرفہرست رہا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عراق میں بیس سال کے بعد اتنے اعلٰی سطحی اجلاس کا انعقاد اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہاں کے حالات اب بہتر ہوئے ہیں۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے شام کے صدر بشار الاسد سے کہا تھا کہ وہ امن منصوبے پر جلد سے جلد عملدرآمد شروع کریں۔

ان کا کہنا تھا ’ اب وقت ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔‘

بان کی مون اجلاس کے دوران اہم رہنماؤں سے مل کر اس حوالے سے بات کریں گے کہ کوفی عنان کی جانب سے پیش کئے منصوبے پر عملدرآمد کے لیے اقوامِ متحدہ کس طرح عرب لیگ کے ساتھ تعاون کر سکتا ہے۔

مغربی طاقتوں نے شام کی حکومت کی طرف سے کوفی عنان کے امن منصوبے کو قبول کرنے کے اعلان پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کے منصوبے میں سیاسی اصلاحات پر عمل درآمد کرنے اور اقتدار کی تبدیلی کے لیے حزبِ اختلاف کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے مطالبات بھی کیے گئے ہیں۔

کوفی عنان کے منصوبے کو روس اور چین کی حمایت حاصل ہے جنہوں نے دو مرتبہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف پیش کی گئیں قراردادوں کو ویٹو کیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں گزشتہ ایک سال سے جاری حکومت مخالف تحریک میں نو ہزار کے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہِلری کلنٹن کہہ چکی ہیں کہ ’ بشارالاسد کی طرف سے زیادہ وعدوں اور ان پر کم عمل درآمد کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اس مرتبہ کیا گیا وعدہ فوری طور پر پورا کیا جانا چاہیے۔ ہم اسد کی خلوصِ نیت اور سنجیدگی کا اندازہ اُن کے فعل سے لگائیں گے نہ کہ قول سے۔‘

دوسری مغربی طاقتوں نے بھی اسی قسم کے شکوک و شہبات کا اظہار کیا تھا۔

اسی بارے میں