برما کے انتخابات آزادانہ و شفاف نہیں، سوچی

آنگ سان سوچی تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آنگ سان سوچی یکم اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں

برما میں جمہوریت کی حامی لیڈر آنگ سان سوچی نے اتوار کے روز منعقد ہونے والے ملک کے ضمنی انتخابات سے قبل بعض بے قاعدگیوں کی نشاہدہی کی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ انتخاب میں ححصہ لیں گی۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کو ’آزادانہ اور شفاف نہیں کہا جاسکتا‘۔

برما میں یکم اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات سے پہلے خطاب کرتے ہوئے آنگ سان سوچی نے کہا کہ انتخابی مہم کو صحیح معنوں میں ’آزادانہ اور شفاف ‘ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

نوبل اعزاز یافتہ آنگسان سوچی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے باوجود بھی وہ انتخابات میں حصہ لیں گی اور انہیں اپنے اس فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔

ایسا کہا جارہا ہے کہ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی( این ایل ڈی) کی سربراہ آنگ سان سوچی رنگون کے جنوب مغربی علاقے کواہمو کی انتخابی سیٹ پر فتح حاصل کریں گی۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ سوچی نے کہا تھا کہ انتخابات میں جس طرح کی خلاف وزریاں ہورہی ہیں وہ کسی بھی ’جمہوری نظام میں قابل قبول‘ نہیں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جس انتخابی حلقے سے وہ انتخابات لڑرہی ہیں وہاں کم از کم تیرہ سو ووٹروں کے نام ووٹر فہرست سے غائب ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابی مہم کے دوران ڈرانے دھمکانے اور غنڈا گردی کے معاملے بھی سامنے آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ان سب واقعات کے بعد بھی ہم انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں کیونکہ ہمارے لوگ یہی چاہتے ہیں۔ ہمیں اس کا کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔‘

ان انتخابات کو فوج کی حمایت یافتہ برمی حکومت کے اصلاح پسندی کے دعوؤں کے اہم ترین تجزیے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آنگ سان سوچی رنگون کے جنوب مغرب میں کواہمو کی نشست پر یکم اپریل کو ہونے والے الیکشن میں حصہ لیں گی۔

سو چی کو نومبر 2010 میں بیس سال کی نظر بندی کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

برما میں ضمنی انتخابات میں اڑتالیس نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔ یہ نشستیں اس وقت خالی ہوئی تھیں جب کابینہ کے ارکان نے اپنی وزارتیں سنبھال لی تھیں۔

آنگ سان سو چی کی جماعت ضمنی انتخابات میں چالیس نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

وہ جس علاقے سے انتخاب میں حصہ لیں گی وہ دو ہزار آٹھ میں آنے والے نرگس نامی سمندری طوفان سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔

یہ پہلا موقع ہو گا کہ آنگ سان سوچی انتخابات میں حصہ لیں گی۔ وہ سنہ انیس سو نوے میں اپنی جماعت نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی کی انتخابات میں تاریخی فتح کے بعد سے اپنے گھر پر نظربند تھی۔ اس فتح کے باوجود ان کی جماعت کو اقتدار میں آنے نہیں دیا گیا تھا۔

نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی نے دو ہزار دس کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ان انتخابات کے نتیجے میں صدر تھین سین کی عوامی حکومت نے فوجی جنتا کی جگہ لی تھی۔

حکومت سنبھالنے کے بعد برمی حکام نے محترمہ سو چی سے مذاکرات کیے تھے اور وہ انتخابی قانون تبدیل کر دیا تھا جس کی وجہ سے سان سو چی کی جماعت نے دو ہزار دس کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

ان انتخابات میں بیرونی مبصرین کو انتخابات کا جائزہ لینے کے برما آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سو سے زائد بیرونی صحافیوں کو بھی انتخابات کے دوران رپورٹنگ کی اجازت دی گئی ہے۔

برما میں یہ پہلی بار ہے کہ کسی انتخابات میں بیرونی مبصرین کو اجازت دی گئی ہے۔

اسی بارے میں