امن تک فوج شہروں میں رہے گی:شامی حکومت

شام کا ایک فوجی ٹینک تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور عرب ليگ نے شام کے لیے جو امن منصوبہ بنایا ہے وہ شام کے لیے خون خرابہ بند کرنے کا آخری موقع ہے

شامی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے شہروں کے رہائشی علاقوں میں شامی فوج تب تک تعینات رہے گی جب تک ملک میں امن اور سکیورٹی بحال نہیں ہوتی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کا اعلان اس وقت کیا ہے جب اقوام متحدہ کے امن مشن نے شام سے کہا ہے کہ وہ جذبۂ خیرسگالی کے طور پر ملک سے فوج کو ہٹا لے۔

شام کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سرکاری میڈیا کو بتایا ہے کہ ’شامی شہروں میں فوج کی موجودگی شہریوں کے دفاع کے لیے ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک بار ملک میں امن اورسکیورٹی بحال ہوجائے گی تو فوج کو ہٹا لیا جائے گا۔‘

شام کے صدر بشار الاسد نے اقوام متحدہ کے ایلچی کوفی عنان کے امن کے منصوبے کو تسلیم کرلیا ہے۔

اس سے قبل کوفی عنان نے توقع کا اظہار کیا تھا کہ شامی حکومت ان کے امن منصوبے پر فی الفور عمل کرے گی۔

شامی حکومت نے منگل کو جس امن منصوبے کو تسلیم کیا ہے اس کے مطابق تمام فریق ہر طرح مسلح کارروائیاں بند کر دیں گے اور اقوام متحدہ اس کی نگرانی کرے گی۔

اسی دوران ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور عرب ليگ نے شام کے لیے جو امن منصوبہ بنایا ہے وہ شام کے لیے خون خرابہ بند کرنے کا آخری موقع ہے۔

انہوں نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز کو بتایا ہے کہ دمشق کو یہ منصوبہ ’بغیر کسی تاخیر کے قبول کرلینا چاہیے‘۔

تاہم اسی دوران حکومت اور اس کے مخالفین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور جمعہ کو ان جھڑپوں میں چالیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع بھی ملی۔

اقوام متحدہ کا ماننا ہے کہ ایک برس سے جاری حکومت مخالف بغاوت میں کم از کم نو ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ہلاک ہونے والے بیشتر شہری ہیں جو فوج کی جانب کی گئی گولہ باری میں ہلاک ہوئے ہیں۔

اس دوران شام میں سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج کا شمالی صوبہ عدلب اور وسطی شہر حمص میں مسلح باغیوں سے تصادم ہوا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ حمص کے صوبے میں بساس نامی گاؤں کے قریب دو افراد اس وقت ہلاک ہوئے ہیں جب ان کی کار پر فائرنگ کی گئی۔

اسی بارے میں