آنگ سان سُوچی نئے دور کے آغاز کے لیے پرامید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آن سان سوچی کی پارٹی کو دیگر نشستوں پر بھی اپنی کامیابی کا یقین ہے

برما میں غیر سرکاری نتائج کے مطابق حزبِ اختلاف کی جماعت این ایل ڈی یا قومی جمہوری لیگ کی قائد آنگ سان سُوچی پہلی مرتبہ پارلیمان کے ضمنی انتخابات میں ایک نشست پر کامیاب ہوگئي ہیں۔

انہوں نے اپنی جیت کو’ عوام کی فتح‘ سے تعبیر کیا اور کہا کہ ان کا مقصد دیگر جماعتوں کے ساتھ مصالحتی عمل شروع کرنا ہے۔

این ایل ڈی کا دعویٰ ہے کہ نوبل انعام یافتہ آنگ سان سُوچی کی جماعت نے ضمنی انتخابات کی جن دیگر نشستوں پر انتخاب لڑا ہے اس میں بھی ان کی کامیابی طے ہے۔ لیکن سرکاری سطح پر ابھی ان کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گيا ہے۔

آنگ سان سوچی کا کہنا تھا ’یہ کوئی ہماری بڑی جیت نہیں بلکہ عوام کی جیت ہے جنہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انہیں بھی ملک کے سیاسی عمل میں شامل کیا جائے، ہمیں امید ہے کہ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔‘

آنگ سان سوچی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو مزید حکومتی اصلاحات لانے کے لیے استعمال کریں گے۔

برما میں پینتالیس پارلیمانی نشستوں کے ضمنی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی جاری ہے لیکن رنگون میں آنگ سان سوچی کی این ایل ڈی پارٹی کے کارکنوں نے اتوار کی رات گئے تک بھرپور جشن منایا۔

آنگ سان سوچی کی پارٹی نے مہم اور رائے شماری کے دوران بے ضابطگیوں کی شکایت کی البتہ یورپی یونین کے مبصرین کے وفد کی سربراہ مالگورزاتا واسیلِسکا نے دارالحکومت میں ووٹنگ کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ حتمی رائے دینا قبل از وقت ہو گا۔

انہوں نے کہا ’میرے لیے رائے شماری کا عمل کافی متاثر کن رہا۔ جن پولنگ سٹیشنوں پر گئی، جو کہ دارالحکومت کے گرد و نواح میں تھے، وہاں بہت اچھے انتظامات اور جوش و جذبہ تھا۔‘

ان کا کہنا تھا ’لیکن ہمیں دوسرے علاقوں کا مشاہدہ کرنے والے دیگر ساتھیوں کی رپورٹ موصول ہونی ہے اور مشترکہ رائے کے بغیر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ انتخابی عمل، شفاف تھا یا نہیں۔‘

ادھر امریکہ کی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے برما کو انیخابات کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ان اصلاحات کی حمایت کے بارے میں پرعزم ہے۔

یورپی یونین نے بھی اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ انتخابات کے کامیاب انعقاد پر برما پر عائد پابندیوں پر نظرِ ثانی کر سکتا ہے۔

آنگ سان سوچی کی جماعت سنہ انیس سو نوے کے انتخابات میں بھی کامیاب رہی تھی تاہم انہیں اقتدار سنبھالنے نہیں دیا گیا۔ اس کے بعد وہ کئی سال تک اپنے گھر میں نظر بند رہیں۔

ان انتخابات کو سیاسی اصلاحات کا ایک اہم تجربہ سمجھا جا رہا ہے تاہم فوج اور اس کے اتحادیوں کی پارلیمان پر گرفت متواتر برقرار رہے گی۔

این ایل ڈی کے حکام کا ماننا ہے کہ ان کی جماعت نے جن چونتالیس نشتوں پر انتخابات میں حصہ لیا، وہ ان تمام پر کامیاب ہو گئے ہیں تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی سرکاری نتائج کا اعلان نہیں ہوا ہے۔

اگر این ایل ڈی ان تمام نشتوں پر کامیابی حاصل کر بھی، پھر بھی فوج اور ان کی اتحادی جماعت یو ایس ڈی پی پارلیمنٹ میں اسّی فیصد نشتوں پر موجود ہوں گے۔

اسی بارے میں