ٹمبکٹو کے محاصرے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

افریقی ملک مالی میں علیحدگی پسند باغیوں نے ملک کے شمال میں تیز تر پیش قدمی اور تاریخی شہر ٹمبکٹو کے محاصرے کا دعویٰ کیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر سے بھاری اور خود کار ہتھیاروں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور بظاہر ان کا رخ شہر میں قائم فوجی اڈے کی جانب ہے۔

ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فوجیوں نے اڈے کو خالی کر دیا ہے۔

اس سے پہلے گزشتہ دنوں باغیوں اور ان کے اسلامی اتحادیوں نے دو اہم مقامات کیدال اورگاؤ پر قبضہ کر لیا تھا۔

ایک رہائشی نے بی بی سی کے تھامس فیسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مالی کی فوج فرار ہو چکی ہے لیکن مقامی کاروباری طبقے کی سرپرستی میں کام کرنے والی ملیشیا اب بھی شہر کا دفاع کر رہی ہے۔

رہائشی نے مزید بتایا کہ شہر کے اندر کوئی لڑائی نہیں ہو رہی ہے۔

ٹمبکٹو شہر دارالحکومت بماکو سے ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ واحد شہر ہے جو فوج کے کنٹرول میں تھا۔

ابھی لڑائی کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔

سنیچر کو مالی کی نیشنل موومنٹ فار دی لبریشن آف آزواد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ گاؤ شہر کو آزاد کرایا جا چکا ہے۔

نوے ہزار آبادی والے اس شہر پر باغیوں کے قبضے کے بعد سے اطلاعات بہت کم موصول ہو رہی ہیں۔

عینی شاہدین نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ نامعلوم حملہ آوروں نے زبردستی شہر میں واقع جیل کے دروازے کھولنے پر مجبور کیا اور شہریوں نے سرکاری عمارتوں میں لوٹ مار کی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں موجود سرکاری اہلکاروں اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے کارکن شہر سے نکل گئے ہیں۔

خیال رہے کہ مالی میں اقتدار پر فوج کے قبضے کے بعد گزشتہ کئی ہفتوں سے بحران کی صورتحال ہے۔ فوج نے یہ کہتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا تھا کہ وہ باغیوں کو کچلنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

باغی فوج کے رہنما کیپٹن ایمادوس سانگو کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گاؤ شہر کا دفاع اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ فوجی اڈہ رہائشی علاقے کے قریب واقع تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مالی میں لڑائی کی وجہ سے دو لاکھ کے قریب افراد نے نقل مکانی کر کے ہمسایہ ممالک میں پناہ لی ہے

مالی کے معزول کیے جانے والے صدر عمادو طومانی طور کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ مالی میں ہی موجود ہیں اور محفوظ ہیں۔

دوسری جانب علاقائی تنظیم ایکوواس نے مالی میں حکومت کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ ملک میں ممکنہ مداخلت کے لیے اس کے دو ہزار فوجی تیار کھڑے ہیں۔

گروپ نے بین الاقوامی برادری سے مدد کی درخواست کی ہے۔ تنظیم کے سربراہ اور آئیوری کوسٹ کے صدر نے کہا ہے کہ مالی کی سالمیت کو ہر قیمت پر بحال کیا جائے گا۔

تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر پیر تک فوج واپس بیرکوں میں نہیں گئی تو مالی کی سرحدیں بند اور اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔

مالی میں طوارق قبائل اس سے پہلے بھی متعدد بار بغاوت کر چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت انہیں نظرانداز کرتی چلی آ رہی ہے۔

تاہم حالیہ بغاوت میں اس لیے شدت آئی ہے کیونکہ گزشتہ سال لیبیا میں معمر قذافی اور ان کے مخالفین کے لیے لڑنے والے طوارق جنگجو واپس مالی پہنچے ہیں۔

ان جنگجوؤں کے پاس لوٹے ہوئے بھاری ہتھیار بھی ہیں۔

اسی بارے میں