’شام میں باغیوں کو تنخواہیں دی جائیں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت مخالف فوجیوں کو تنخواہیں دینے کی ذمہ داری شامی قومی کونسل کی ہوگی: برہان غالیون

شامی قومی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کو تنخواہیں دی جائیں گی۔

ترکی کے شہر استنبول میں ’فرینڈز آف سیریا‘ کے اجلاس کے بعد شام میں حزبِ مخالف شامی قومی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ شامی حکومت کا ساتھ چھوڑنے والے فوجیوں کو بھی پیسے دیے جائیں گے۔

ستر مغربی اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شام کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ ’فرینڈز آف سیریا‘ نامی اس تنظیم کی یہ دوسری ملاقات تھی۔

کانفرنس میں شرکت کرنے والے وزرائے خارجہ کے مطابق دولت مند خلیجی ممالک شامی قومی کونسل کو دسیوں لاکھ ڈالر ماہانہ فراہم کریں گے۔

اجلاس کے دوران شامی قومی کونسل کے سربراہ برہان غالیون نے کہا ’شامی قومی کونسل، فری سیریئن آرمی کے تمام اہلکاروں اور فوجیوں سمیت دیگر ممبران کو تنخواہیں دینے کی ذمہ داری لے گی۔‘

تاہم اس اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ شامی قومی کونسل ہی قانونی طور پر شامی عوام کی جائز ترجمان ہے۔

ایک نیوز کانفرنس کے دوران ترکی کے وزیرِ خارجہ احمد داؤداو نے شام کو خبردار کیا کہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ سفیر کوفی عنان کی جانب سے تجویز کردہ امن منصوبہ حتمی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے بھی یہی موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ صدر بشارالسد کے پاس ’تاخیر اور بہانوں کے لیے مزید وقت نہیں ہے۔‘

اگرچہ اجلاس سے قبل شامی قومی کونسل کی جانب سے مطالبہ آیا تھا کہ منحرف فوجیوں یا ’فری سریئن آرمی‘ کو ہتھیار مہیا کیے جائیں لیکن کانفرنس کے دوران امریکہ اور ترکی سمیت کئی ممالک نے اس کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’فری سریئن آرمی‘ کو ہتھیاروں سے لیس کرنے سے خانہ جنگی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

تاہم روس، چین اور ایران سمیت اہم ممالک نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

دوسری جانب شامی حکومت نے حکومت مخالف باغی جنگجووں پر فتح حاصل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق صدر الاسد کے خلاف گزشتہ ایک سال سے جاری احتجاج میں اب تک نو ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شام میں اتوار کو بھی تشدد کے مختلف واقعات میں دس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں