مالی: اداروں، آئین کو بحال کرنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

افریقی ملک مالی میں اقتدار پر قبضہ کرنے والے باغی فوجیوں نے ریاستی اداروں اور آئین کو بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اُنہیں ہمسایہ ملکوں کی طرف سے پابندیوں کی دھمکی دی گئی تھی اور منتخب حکومت کو بحال کرنے کے لیے پیر تک کی مہلت دی گئی تھی۔

باغی فوج نے ریاستی اداروں اور آئین کی بحالی کے حوالے سے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

مالی کے فوجیوں نے شمال میں طوارق باغیوں کے خلاف لڑائی تیز کرنے کے لیے دس روز قبل اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔

فوجیوں کا کہنا تھا کہ حکومت نے اُنہیں باغیوں کے خلاف لڑنے کے لیے حسبِ ضرورت سہولتیں فراہم نہیں کیں اس لیے وہ خود اقتدار سنبھال کر باغیوں کو فیصلہ کن شکست دینا چاہتے ہیں۔

لیکن فوج کے اقتدار پر قبضے کے بعد طوارق باغیوں نے تیزی سے پیش قدمی کی اور شمال میں تمام فوجی اڈوں پر قبضہ کر لیا۔

دریں اثناء علاقائی تنظیم ایکوواس کے رہنماؤں کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں مالی پر پابندیاں عائد کرنے کا جائزہ لیا جائے گا۔

اجلاس سے پہلے ایکوواس تنظیم کے سربراہ اور آئیوری کوسٹ کے صدر نے باغی فوج کے رہنما کیپٹن ایمادوس سانگو سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے آئین کی بحالی کے اعلان پر ان شکریہ ادا کیا۔

گروپ نے بین الاقوامی برادری سے مدد کی درخواست کی ہے۔ سنیچر کو تنظیم کے سربراہ نے کہا تھا کہ مالی کی سالمیت کو ہر قیمت پر بحال کیا جائے گا۔

تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر پیر تک فوج واپس بیرکوں میں نہیں گئی تو مالی کی سرحدیں بند اور اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔

دوسری جانب علیحدگی پسند باغیوں نے ملک کے شمال میں تیز تر پیش قدمی اور تاریخی شہر ٹمبکٹو کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ٹمبکٹو شہر دارالحکومت بماکو سے ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ واحد شہر ہے جو فوج کے کنٹرول میں تھا۔

ابھی لڑائی کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔

سنیچر کو مالی کی نیشنل موومنٹ فار دی لبریشن آف آزواد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ گاؤ شہر کو آزاد کرایا جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مالی میں لڑائی کی وجہ سے دو لاکھ کے قریب افراد نے نقل مکانی کر کے ہمسایہ ممالک میں پناہ لی ہے

باغی فوج کے رہنما کیپٹن ایمادوس سانگو کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گاؤ شہر کا دفاع اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ فوجی اڈہ رہائشی علاقے کے قریب واقع تھا۔

مالی کے معزول کیے جانے والے صدر عمادو طومانی طور کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ مالی میں ہی موجود ہیں اور محفوظ ہیں۔

مالی میں طوارق قبائل اس سے پہلے بھی متعدد بار بغاوت کر چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت انہیں نظرانداز کرتی چلی آ رہی ہے۔

تاہم حالیہ بغاوت میں اس لیے شدت آئی ہے کیونکہ گزشتہ سال لیبیا میں معمر قذافی اور ان کے مخالفین کے لیے لڑنے والے طوارق جنگجو واپس مالی پہنچے ہیں۔

ان جنگجوؤں کے پاس لوٹے ہوئے بھاری ہتھیار بھی ہیں۔

اسی بارے میں