کیلیفورنیا: کالج میں فائرنگ سے سات ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مانا جا رہا ہے کہ حملہ آور اوکلینڈ کا ہی رہائشی ہے

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک مسلح شخص نے مقامی کالج میں داخل ہو کر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

اوکلینڈ پولیس کے سربراہ ہاورڈ جان کا کہنا ہے کہ قاتل کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس کا نام ون گوہ ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ امریکی وقت کے مطابق پیر کی صبح ساڑھے دس بجے اوکلینڈ کی نجی مذہبی ’اوئکوس یونیورسٹی‘ میں پیش آیا جہاں زیادہ تر کوریا سے تعلق رکھنے والے طلباء پڑھتے ہیں۔

حکام کے مطابق تینتالیس سالہ حملہ آور اسی درسگاہ کا سابق طالبعلم ہے اور اسے قریبی شہر المیڈا کے بازار میں ہتھیار ڈالنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔

اوکلینڈ پولیس کی جوہنا واٹسن نے بتایا ’یہ ایک کورین کالج ہے۔ ایک مسلح شخص کالج میں داخل ہوا اور اس نے گولیاں چلانی شروع کر دیں‘۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے میں پانچ افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ دو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

پیر کی شام پریس کانفرنس میں اوکلینڈ پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ مانا جا رہا ہے کہ حملہ آور اوکلینڈ کا ہی رہائشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال اس حملے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے

اوئیکوس یونیورسٹی ایک نجی مذہبی تعلیمی ادارہ ہے جہاں دینیات، موسیقی اور نرسنگ کی تعلیم دی جاتی ہے۔

آج سے دس سال قبل اس کالج کی بنیاد رکھنے والے پیسٹر جانگ کم نے مقامی اخبار اوکلینلڈ ٹریبیون کو بتایا کہ ’میں نے بلڈنگ میں تقریباً تیس گولیوں کے چلنے کی آوازیں سنیں۔ تاہم میں اپنے دفتر میں ہی رہا‘۔

حملے میں زخمی ہونے والی ایک خاتون کی مدد کرنے والی اینجی جانسن کا کہنا تھا کہ ’اس خاتون کے بازو میں ایک سوراخ تھا جس سے خون ابل رہا تھا۔ اینجی کے مطابق اس زخمی خاتون نے انہیں بتایا کہ حملہ آور نے نرسنگ کی ایک کلاس کے دوران کھڑے ہو کر پہلے ایک طالبعلم کو سینے میں گولی ماری اور پھر کمرے میں فائرنگ شروع کر دی۔

کیلیفورنیا کے گورنر جیری براؤن نے اس واقعے کو پریشان کن اور دھچکا پہنچانے والا قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب رواں سال فروری میں امریکی ریاست اوہایو کے ایک سکول کے طالب علم نے سکول میں فائرنگ کر کے تین طلباء کو ہلاک اور چھ کو زخمی کر دیا تھا۔

اسی بارے میں