شام کا بحران، ترکی کی اقوام متحدہ پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام پر کوئی فیصلہ نہ کرنا ظلم کی حمایت کرنے کے مترادف ہے:ترک وزیر اعظم

ترکی کے وزیر طیب اردوگان نے شام کے بحران پر اقوام متحدہ کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں ہر روز لوگ مارے جا رہے ہیں لیکن اقوام متحدہ ہاتھ باندھے ایک طرف کھڑی ہے۔

ترک وزیر اعظم نے کہا ہے :’ شام پر کوئی فیصلہ نہ کرنا ظلم کی حمایت کرنے کے مترادف ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ترکی مشکل کی اس گھڑی میں شام کے عوام کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔

ادھر روس نے کہا ہے کہ شام کی حکومت نے اسے مطلع کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ مندوب کوفی عنان کے امن منصوبے پر عمل کرتے ہوئے دس اپریل سے فوج کو شہروں سے نکالنا شروع کر دے گا۔

کوفی عنان کے ترجمان احمد فوازی نے کہا ہے کہ امن منصوبے پر عمد درآمد کی نگرانی کرنے والی اقوام متحدہ کی چھ رکنی ٹیم اگلے دو روز میں دمشق میں پہنچ جائے گی۔

اقوام متحدہ کے مندوب کوفی عنان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا تھا کہ وہ شام امن منصوبے پر عمل درآمد کرنے کےلیے دس اپریل کی تاریخ مقرر کرے۔

مغربی ممالک کی جانب کی روس اور چین پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ بشار الاسد کی حکومت کی بچانے کے لیے کوشاں ہے جو اب تک ہزاروں افراد کو ہلاک کر چکی ہے۔ روس اور چین نے شام پر ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔

اسی بارے میں