موغادیشو: خود کش حملے میں دس ہلاک

آخری وقت اشاعت:  بدھ 4 اپريل 2012 ,‭ 12:44 GMT 17:44 PST

اس حملے کی ذمہ داری الشباب نامی تنظیم کے شدت پسندوں نے قبول کی ہے۔

موغا دیشو میں ہونے والے ایک خود کُش حملے میں صومالیہ کی اولمپک کمیٹی اور فٹبال کے سربراہ سمیت دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

صومالیہ کے رکنِ پارلیمنٹ عبدیویلی محمد علی بھی خود کش حملے کے وقت نئے سرے سے کھنے والے نیشنل تھیٹر میں موجود تھے تاہم انھوں نے بعد میں بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ اہیں کوئی گزند نہیں پہنچی۔

اس حملے کی ذمہ داری الشباب نامی تنظیم کے شدت پسندوں نے قبول کی ہے۔

اس تھیٹر کو صومالیہ ٹیں خانہ جنگی کی وجہ سے 1990 میں بند کر دیا گیا تھا اور حالات بدلنے کی توقع کے پیش نظر گذشتہ ماہ ہی کھولا گیا تھا۔

صومالیہ کی اولمپلکس کمیٹی کے صدر عدن یابارو ویش اور صومالیہ کی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ سعید محمد نور بھی ان سرکردہ لوگوں میں شامل تھے جو صومالیہ کے قومی ٹیلی وژن کے شروع ہونے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ہونے والی تقریب میں شرکت کے لیے موجود تھے۔

وزیراعظم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوور ایک عورت تھی۔ جب کے عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ دھماکے عین اس وقت ہوئے جب موسیقی لا پروگرام جاری تھا۔ گلوکار گا رہے تھے اور سامعین تالیاں بجا رہے تھے۔

رپورٹروں کا کہنا ہے کہ دھماکے سے درجنوں افراد زخمی ہوئے اور جائے وقوعہ پر ہر طرف خون میں لتھڑے ہوئے موبائل فون اور جوتے بکھرے ہوئے تھے، متعدد کرسیوں کے ٹکڑے دور دور جا گرے تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ الشباب کو صومالیہ کے کئی حصوں پر کنٹرول حاصل ہے اور موغا دیشو سے بھی اسے گذشتہ سال ہی افریقن یونین کی افواج نے ہی نکالا تھا۔

اس کے بعد ہی موغادیشو میں حالات کسی حد تک معمول پر آنے لگے تھے، شہر میں ریستوراں کھلنے لگے تھے اور کھیلوں کی سرگرمیاں شروع ہونے لگی تھیں۔

لیکن اس دوران بھی دارالحکومت میں گاہے گاہے الشباب کے حملے، دھماکے اور بمباریوں کے واقعات جاری رہتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔