نائن الیون کے منصوبہ سازوں کے خلاف مقدمہ چلانے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خالد شیخ محمد کو 2003 میں راولپنڈی کے ایک گھر سے گرفتار کیا گیا تھا

امریکہ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد اور چار دیگر افراد کے خلاف مقدمہ ایک فوجی کمیشن کو بھیج دیا گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مقدمے کی باضابطہ کارروائی ایک ماہ کے اندر شروع ہو جائے گی۔

نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز اور ان کے چار ساتھیوں کے خلاف مقدمے کی کارروائی عام عدالت کی بجائے ایک ملٹری کمیشن کے سامنے ہوگی۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ گوانتاموبے کے قیدخانے میں مقید خالد شیخ محمد اور چار دیگر افراد کے خلاف مقدمہ ملٹری کمیشن کو بھیج دیاگیا ہے۔

ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے نائن الیون کے حملے کی منصوبہ بندی کی۔ ان افراد کو طیاروں کو اغوا کرنے، قتل کی سازش اور جائیداد کو نقصان پہنچانے کے الزامات کا سامنا ہوگا۔ اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ ملزمان پر عائد الزامات ٹھیک ہیں تو انہیں پھانسی کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

جن افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں خالد شیخ محمد، وليد بن عطاس، رمزى بن الشيبہ ،على عبد العزيز على، مصطفى احمد الھوساوى شامل ہیں۔

ان پانچ افراد پر اس سے پہلے بھی نائن الیون کے حملوں کے حوالے سے گوانتنامو میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی لیکن اوباما انتظامیہ نے اس فرد جرم کو ختم کرتے ہوئے اس مقدمے کو سول عدالت میں لانے کا فیصلہ کیا لیکن بعد میں عوامی دباؤ کے تحت اس فیصلے کو واپس لے لیا۔

خالد شیخ محمد اور دیگر چار افراد کو ایک ماہ کے اندر یہ الزامات پڑھ کر سنائے جائیں گے اور ان کو موقع دیا جائے گا کہ وہ جرم کو قبول کرتے ہیں یا اس سے انکار۔

پینٹاگون پہلے کئی بار کہہ چکا ہے کہ خالد شیخ محمد نائن الیون کے حملے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ پچھلی ایک پیشی پر خالد شیخ محمد نے کہا تھا کہ وہ جرم تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ ’شہادت‘ کا خیر مقدم کریں گے۔