’انتہا پسندی کے رجحان میں اضافے کا خدشہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رپورٹ کے مطابق گزشتہ پندرہ سالوں میں برطانیہ میں شمالی افریقی، پاکستانی اور بھارتی برادریوں کے نوجوانوں میں انتہاء پسندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

برطانیہ کی رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کی شائع کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیم القاعدہ افریقی براعظم میں اپنی ساکھ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق القاعدہ کی اس کوشش کی وجہ سے افریقی نژاد برطانوی نوجوانوں میں انتہاء پسندی کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پیش رفت برطانوی اور دوسرے مغربی ممالک کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ کے اندر سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات کو نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ پندرہ سالوں میں برطانیہ میں رہائش پذیر شمالی افریقی، پاکستانی اور بھارتی نژاد نوجوانوں میں انتہاء پسندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ کی مصنف ویلنٹینا سوریا کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو جلد ہی صومالی اقلیت اور دوسری افریقی برادریوں کی جانب سے انتہاء پسندی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اس کی وجہ جہادی تحریکوں کی توجہ کا رخ وسطی افریقہ کی جانب ہونا ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اب القاعدہ کی قیادت دوسرے گروہوں کے ساتھ شراکت اور تعلقات بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

مغربی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ نہ صرف اپنی طرز میں تبدیل بلکہ افریقہ کی طرف منتقل بھی ہو گیا ہے جہاں صومالیہ کے بارے میں اہم خدشات ہیں۔

صومالیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ویلنٹینا سوریا نے کہا کہ صومالی شدت پسند تنظیم الشباب کے لیے غیر ملکی جنگجو اگرچہ ایک محدود مگر ایک اہم اثاثہ ثابت ہو رہے ہیں۔

ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ افریقہ کے مقامی اسلامی شدت پسند حلقوں اور گروہوں پر اثر انداز ہوکر انہیں منظم اور فعال کرنا چاہتی ہے تاکہ اپنی عالمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے نیا محاذ کھولا جاسکے۔

ادارے کے مطابق اس کوشش میں القاعدہ کی کمزور قیادت مغربی حصے مالی سے لے کر نائجر اور نائیجیریا تک، اور مشرقی حصے صومالیہ سے لے کر کینیا تک پورے افریقی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں