’شام کے خلاف فوری اور سخت ترین اقدامات‘

Image caption روس اور چین پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ بشار الاسد کی حکومت کی بچانے کے لیے کوشاں ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سوزن رائس نے کہا ہے کہ شام اگر جنگ بندی کی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد نہیں کرتا تو اس صورت میں سلامتی کونسل اس کے خلاف فوری اور سخت ترین اقدامات کرے۔

اقوام متحدہ نے شام کی حکومت کو عرب لیگ اور اقوام متحدہ کی جانب سے تجویز کردہ جنگ بندی سے قبل تشدد میں اضافے سے خبردار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر شام کی حکومت نے دس اپریل تک فوجی کارروائی روکنے کا اپنا وعدہ پورا نہ کیا تو سلامتی کونسل کو اس کا جلد جواب دینا ہوگا۔

تاہم امریکی سفیر نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ سلامتی کونسل میں شام کے مسئلے کو حل کرنے کے لائحہ عمل پر اختلافات ہیں۔

شامی حکومت کا کہنا ہے وہ دس اپریل سے جنگ بندی پر عمل درآمد شروع کرے گا تاہم سوزن رائس نے اس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

حکومت مخالف کارکنوں کا کہنا تھا کہ شامی حکومت اقوام متحدہ کے مبصرین کی آمد سے پہلے ہی حزب اختلاف کی تحریک کو کچل دینا چاہتی ہے۔

اقوام متحدہ کے امن بندی کے ادارے کی ایک ٹیم مبصرین کی تعیناتی کے سلسلے میں دمشق میں جلد متوقع ہے۔

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے بدھ کے روز ناروے کے ٹیم کے سربراہ میجر جنرل رابرٹ موڈ سے جنیوا میں ملاقات کریں گے۔

جنرل موڈ اس سے پہلے مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کے جنگی بندی کی نگرانی کرنے والے ادارے کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

اس سے پہلے ترکی کے وزیر طیب اردوگان نے شام کے بحران پر اقوام متحدہ کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں ہر روز لوگ مارے جا رہے ہیں لیکن اقوام متحدہ ہاتھ باندھے ایک طرف کھڑی ہے۔

ترک وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’شام پر کوئی فیصلہ نہ کرنا ظلم کی حمایت کرنے کے مترادف ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ترکی مشکل کی اس گھڑی میں شام کے عوام کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔

ادھر روس کا ہے مؤقف ہے کہ شام کی حکومت نے اسے مطلع کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ مندوب کوفی عنان کے امن منصوبے پر عمل کرتے ہوئے دس اپریل سے فوج کو شہروں سے نکالنا شروع کر دے گا۔

کوفی عنان کے ترجمان احمد فوازی نے بتایا تھا کہ امن منصوبے پر عمد درآمد کی نگرانی کرنے والی اقوام متحدہ کی چھ رکنی ٹیم اگلے دو روز میں دمشق میں پہنچ جائے گی۔

اقوام متحدہ کے مندوب کوفی عنان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا تھا کہ وہ شام امن منصوبے پر عمل درآمد کرنے کےلیے دس اپریل کی تاریخ مقرر کرے۔

مغربی ممالک کی جانب کی روس اور چین پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ بشار الاسد کی حکومت کی بچانے کے لیے کوشاں ہے جو اب تک ہزاروں افراد کو ہلاک کر چکی ہے۔ روس اور چین نے شام پر ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔

اسی بارے میں