برما کے خلاف امریکی پابندیوں میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آنگ سنگ سوچی کی پارٹی نے حالیہ انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ برما کے خلاف عائد پابندیوں میں مزید کمی کرے گا۔

امریکی وزیرِ داخلہ ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ چند آمدورفت کے سلسلے میں اور مالی معاملات میں پابندیاں نرم کی جائیں گی اور برما کے رہنما امریکہ کا دورہ کر سکیں گے۔

بدھ کے روز یورپی یونین نے اعلان کیا تھا کہ وہ بھی ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

ان اعلانات کی وجہ برما میں اتوار کے روز ہونے والے ضمنی انتخابات ہیں جن میں جمہوریت حامی رہنما آنگ سان سوچی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔

امریکی وزیر خارجہ نے صدر تھیئین سین کی قیادت اور حوصلہ مندی کی بھی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہونے والی پیش رفت سے بخوبی واقف ہیں اور اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنی رابطے قائم رکھنے کی پالیسی برقرار رکھے گا۔

انہی اقدامات کے تحت امریکہ برما کے لیے اپنا سفیر نامزد کرے گا اور اپنی بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسی کے دفاتر قائم کرے گا۔

برما کے برسوں پرانی آمریت سے ایک جمہوری نظام کی جانب سفر میں ان انتخابات کو ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم امریکی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایسے ادارے اور افراد جو ان تاریخی اصلاحات کے خلاف ہیں، ان پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔

یاد رہے کہ امریکہ نے فروری کے مہینے میں بھی برما پر پابندیوں میں کمی کی تھی۔

اسی بارے میں