رات کے متنازع چھاپے، افغان امریکہ معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغان حکومت اِس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ یہ چھاپے مکمل طور پر افغان فورسز کی سرکردگی میں ہوں۔

افغان حکومت اور امریکہ کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت رات کے وقت چھاپوں کی قیادت اب افغان فورسز کے پاس ہوگی۔

اِس معاہدے کے تحت، جس پر افغان وزیر دفاع اور امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے دستخط کیے ہیں اور اب امریکی فوج اِن چھاپوں میں صرف معاونت فراہم کریں گی۔

اِس موقع پر جنرل جان ایلن نے کہا کہ ’آج ہم افغان امریکہ سٹریٹیجک شراکت داری کی جانب ایک قدم مزید قریب ہو گئے ہیں۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آج ہم اپنے مشترکہ مقصد اور ایک مستحکم اور خود مختار افغانستان کے مزید قریب ہو گئے ہیں۔ اِس معاہدے کا مطلب ہے کہ افغانستان کے قانون اور آئین کا احترام کرتے ہوئے یہ خاص کارروائیاں جاری رہیں گی۔‘

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ رات کے چھاپے مشتبہ شدت پسندوں کو ڈھونڈنے اور پکڑنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں لیکن اکثر افغانوں کا کہنا ہے کہ اِن چھاپوں سے چادر اور چاردیواری کا تقدس مجروع ہوتا ہے اور خواتین کی بے حرمتی ہوتی ہے۔

رات میں کیے جانے والے یہ آپریشن، جو نیٹو اور افغان فورسز کرتی ہیں، افغان حکومت اور امریکی فوج کے درمیان اکثر کشیدگی کی وجہ بنتے ہیں۔

یہ معاہدہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب دو ہزار چودہ میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کا کہنا ہے کہ افغان حکومت اِس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ یہ چھاپے مکمل طور پر افغان فورسز کی سربراہی میں ہوں اور اگر غیر ملکی افواج ایسے کسی چھاپے میں حصہ لینا چاہتی ہیں تو افغان حکومت کی واضح اجازت ہو۔

ایک سینیئر افغان جنرل نے بی بی سی کو بتایا کہ جہاں دن کے وقت افغان شدت پسندوں کا پلڑا بھاری ہوتا ہے وہیں رات کو افغان نیشنل سکیورٹی فورسز اور نیٹو راج کرتے ہیں۔

افغان جنرل کا کہنا تھا کہ رات کے چھاپوں نے طالبان اور دوسرے شدت پسند گروپوں کی کمر توڑ دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رات میں کیے جانے والے یہ آپریشن، جو نیٹو اور افغان فورسز کرتی ہیں، افغان حکومت اور امریکی فوج کے درمیان اکثر کشیدگی کی وجہ بنتے ہیں۔

تازہ معاہدے کے تحت افغان ججوں کو اِن کارروائیوں کا جائزہ لینے اور یہ طے کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا کہ چھاپے کے دوران پکڑے جانے والے افراد کو حراست میں رکھا جائے یا نہیں۔

افغانستان میں جہاں ایک طرف طالبان کی کارروائیوں میں اکثر عام شہری ہلاک ہوتے رہتے ہیں وہیں غیر ملکی افواج کی کارروائیاں بھی عام لوگوں کی ہلاکت کا سبب بنتی ہیں۔ گزشتہ برس بھی افغان صدر حامد کرزئی نے صوبہ ہلمند میں نیٹو کی فضائی کارروائی میں چودہ عام شہریوں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

افغان صدر نے کہا تھا کہ ان کی حکومت کئی بار امریکہ سے کہہ چکی ہے کہ وہ ایسی کارروائیوں سے اجتناب کرے جس میں آخرکار عام شہری ہلاک ہوتے ہیں۔