اسرائیل: جرمن مصنف پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اسرائیل کی حکومت نے جرمن مصنف گیونٹر گراس کو ناپسندیدہ شخص قرار دیتے ہوئے ان کی اسرائیل آمد پر پابندی لگا دی ہے۔

نوبل انعام یافتہ گیونٹر گراس نے حال ہی میں اپنی ایک نظم میں اسرائیل پر تنقید کی تھی۔

اس نظم میں گراس نے جرمنی کی اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت کی مذمت کی اور کہا کہ اسرائیل کو ایران پر حملے کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیے۔

اسرائیلی وزیرِ داخلہ ایلائے یشائے کا کہنا تھا کہ گیونٹر گراس کا اسرائیل میں خیر مقدم نہ ہوگا کیونکہ انہوں نے اسرائیلی ریاست اور عوام کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کی ہے۔

نظم کے ایک حصے میں گراس نے اسرائیلی جوہری پروگرام کی بھی تنقید کی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو پہلے ہی اس نظم کی مذمت کر چکے ہیں۔

گیونٹر گراس اس سے پہلے اپنے کام کے ذریعے جرمنی پر بھی شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔

مصنف کا کہنا تھا کہ شایر انہیں نظم میں ذرا مختلف الفاظ کا استعمال کرنا چاہیے تھا تاکہ یہ واضح ہو کہ وہ بنیادی طور پر نیتن یاہو حکومت کی بات کر رہے ہیں۔

جرمنی میں بسنے والے یہودیوں کی تنظیم نے اس نظم کو نفرت انگیز دستاویز قرار دیا ہے جبکہ حکمران جماعت کرسچیئن ڈیموکریٹس کا کہنا تھا کہ گیونٹر گراس شاعر تو بہت عمدہ ہیں لیکن سیاسی سوجھ بوجھ کی کمی ہمیشہ ان کے رتبے میں کمی کا باعث بنی ہے۔

گیونٹر گراس پر تنقید کرنے والے اس بات کا حوالہ بھی دیتے ہیں کہ انہوں نے دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کی نازی فوج میں ملازمت کی تھی۔ اس بات کا اعتراف گیونٹر نے سنہ دو ہزار چھ میں کیا۔

اسی بارے میں