چین: نایاب دھاتوں کا شعبہ،نیا ادارہ قائم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

چین نے نایاب دھاتوں کے شعبے کی ترقی کے لیے ایک ایسویشی ایشن قائم کی ہے۔

چین کو نایاب دھاتوں کی پالیسی پر بین لاقوامی تنقید کر سامنا ہے۔

چین نے نایاب معدنیات کی برآمدات پر کوٹہ سسٹم نافذ یا برآمدات کو محدود کر دیا ہے جبکہ یہ معدنیات گاڑیوں سے لے کر ٹی وی تک بہت سی اشیاء کو بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

گزشتہ ماہ امریکہ، جاپان اور یورپی یونین نے عالمی تجارتی ادارے میں چین کی نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا تھا۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے زنہوا نیوز کے مطابق نایاب دھاتوں کی ترقی کے لیے قائم کی گئی نئی ایسوسی ایشن بین الاقوامی تجارتی تنازعات سے نمٹنے کی کوششوں میں مدد کرے گی۔

نایاب دھاتوں کی صنعت کے ایک نائب صدر سئو باؤ کے مطابق چین نایاب دھاتوں کے شعبے کی پالیسی مزید سخت کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

زنہوا نیوز کے مطابق نائب صدر سئو باؤ نے کہا کہ’ نایاب دھاتوں کے شعبے کو صاف کرنے کی پالیسی جاری رکھی جائے گی اور اس کے تحت نایاب دھاتوں پر ماحولیاتی کنٹرول، ماحولیات کے حوالے نگرانی میں سختی اور اس ضمن میں پالیسز کو مزید سخت کیا جائے گا۔‘

چین کے فیصلے پر تنقید کرنے والے ممالک کا یہ موقف ہے کہ چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی مقدار پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے سے دنیا بھر میں چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ دنیا میں پچانوے فیصد نایاب معدنیات کی برآمد چین کرتا ہے۔

دوسری جانب چین نے اس مقدمے میں اس پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اس نے برآمدات پر پابندی، کان کنی کے باعث ماحول کو نقصان سے بچانے کے لیے لاگو کی ہیں۔

واضح رہے کہ ان نایاب معدنیات میں سترہ دھات شامل ہیں جو الیکٹریکل اشیاء سمیت بیشر دیگر اشیاء کو بنانے میں استعمال ہوتی ہیں۔

اس بات پر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ چین برآمدات کی مقدار پر پابندی عائد کرنے سے اپنے ملک میں قیمتوں کو کم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے اندرون ملک انڈسٹری کو فائدہ پہنچے گا۔

اسی بارے میں