’بہت سی تبدیلیاں دیکھنا چاہوں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شہزادی بسمہ سعودی عرب کے دوسرے بادشاہ کی سب سے چوٹی بیٹی اور موجودہ شاہ کی بھتیجی ہیں۔

سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی شہزادی بسمہ بنت سعود بن عبدالعزیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک سعودی عرب میں بہت سی تبدیلیاں دیکھنا چاہتی ہیں مگر ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ خواتین کو گاڑیاں چلانے کی اجازت دی جائے۔

میں سعودی عرب کے سابق بادشاہ شاہ سعود کی بیٹی کی حیثیت سے بات کر رہی ہوں۔ میرے والد نے خواتین کی پہلی یونیورسٹی قائم کی، غلامی کو ممنوع کیا اور ایک آئینی بادشاہت بنانے کی کوشش کی جس میں بادشاہ اور وزیرِ اعظم کے عہدوں میں فرق واضح ہو۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ میرے پیارے وطن میں ایسا ہو نہ سکا۔

مجھے اپنی پُر وقار اور فراغ دلی سے بھرپور ثقافت پر فخر ہے لیکن ہمارے پاس معاشرے کے ضابطے کے لیے سول قوانین نہیں ہیں اور ہمیں ان کی اشد ضرورت ہے۔

ایک بیٹی، بہن، سابقہ بیوی، ماں، کاروباری خاتون اور ایک صحافی کی حیثیت سے میں مندرجہ ذیل تبدیلیاں اپنے ملک میں دیکھنا چاہتی ہوں۔

آئین

میں ایک مکمل آئین دیکھنا پسند کروں گی جو کہ تمام مردوں اور عورتوں کے ساتھ قانونی طور پر برابری کا برتاؤ کرے اور ساتھ میں ہمارے سول قوانین اور سیاسی ثقافت کا بھی خیال رکھے۔

مثال کے طور پر اس وقت سعودی عدالتوں میں تمام فیصلے ججوں کی قرآن کریم کی انفرادی تشریح پر کیے جاتے ہیں۔ یہ عالمی طور پر متفقہ اصولوں یا کسی تحریری آیئن کے بجائے ان کے ذاتی عقائد پر مبنی ہوتا ہے۔

میں یہ نہیں کہ رہی کہ مغربی نظام کو اپنا لیا جائے مگر ہمیں اس نظام کا ایسا طرز ضرور لانا چاہیے جو ہماری ضروریات اور ثقافت کے مطابق ہو۔ چنانچہ ہمارا آئین قران کے فلسفے پر بننا چاہیے جس کے قوانین پتھر پر لکیر ہوں اور ججوں کے مزاج پر منحصر نہ ہو۔

خصوصی طور پر آئین کو فرقے، جنس یا معاشری حیثیت سے قطع نظر ہو کر ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ قانون کی نظر میں ہر کسی کو برابر ہونا چاہیے۔

طلاق کے قوانین

میرا ماننا ہے کہ طلاق کے قوانین شدید طور پر ظالمانہ ہیں۔

اس وقت اگر سعودی عرب میں کسی عورت کو طلاق چاہیے تو وہ صرف ’خالی یا دھالی‘ کے تحت ہی لے سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یا تو اس کو ایک بڑی رقم ادا کرنی ہوگی یا پھر اسے طلاق مانگنے کی وجوہات پر کسی کو گواہ بنا کر پیش کرنا ہوگا۔ یہ دوسری شرط پوری کرنا تو تقریباً ناممکن ہے کیونکہ اکثر اوقات یہ وجوہات شادی کی چار دیواری کے پیچھے ہی پوشیدہ ہوتی ہیں۔

خواتین کے لیے طلاق کو مشکل بنانے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ طلاق کے کسی بھی موقعے پر چھ سال سے زیادہ عمر کے کسی بھی بچے کو ازخود ہی باپ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

قرآنِ کریم (جس پر یہ سارے قوانین مبنی ہونے چاہیے ہیں) اس سے بلکل منافی ہے۔ قرآن نے خواتین کو صرف شدید اختلافات کے باعث بھی طلاق لینے کا مکمل حق دیا ہے۔

تعلیمی نظام کی ازسرِنو ترتیب

سعودی عرب میں خواتین کے ساتھ برتاؤ ہمارے بچوں کو سکولوں میں دی جانے والی تعلیم کا نتیجہ ہیں۔

ہمارے نصاب کا مواد انتہائی خطرناک ہے۔ سب سے پہلے تو ہمارے بچوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ خواتین کی معاشرے میں حیثیت کم تر ہے۔ ان کا کام صرف اپنے خاندان کی خدمت کرنا اور بچے پالنا ہے۔ انہیں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ اگر انہیں خدا کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنی پڑے تو وہ ان کا شوہر ہونا چاہیے۔ انہیں پڑھایا جاتا ہے کہ ’اگر خواتین اپنے شوہروں کی فرمانبرداری نہیں کریں گی تو فرشتے ان پر لعنت بھیجیں گے۔‘ یہ سب قرآن کی غلط تشریحوں کا نتیجہ ہے۔ میں ان عقائد کو بنیادی طور پر ظالمنانہ سمجھتی ہوں۔

اس کے علاوہ ہمارے تعلیمی نظام کی توجہ دینی مضامین جیسے کہ حدیث، فقہ، تفسیر اور قرآن پر مرکوز ہے۔ وہاں سوچ یہ ہے کہ دین کے علاوہ کچھ بھی پڑھنے سے آپ کو جنت میں جانے کے لیے مدد نہیں ملے گی تو اپنا وقت برباد نہ کیا جائے۔ میرے خیال میں دینی تعلیم صرف قرآن و سنت تک محدود ہونی چاہیے جہاں اسلام کی اصل اخلاقیات ہیں۔ باقی سب کچھ صرف بغیر سمجھے فقط حافظے پر مبنی علمیت ہے جو انتہائی خطرناک ہے۔ اس نے ہمارے نوجوانوں کو بنیاد پرستی اور دہشتگردی کی جانب دھکیل دیا ہے۔

بجائے اس کے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی ذہانت ایسے جملے یاد کرنے پر لگائیں جن کی اصلیت پر بھی شک ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم انہیں آزادانہ اور جدت آمیز سوچ پر مجبور کریں اور ان کو اپنے معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔ اسلام کے آغاز کے دن بڑے تخلیقی تھے۔ علماء سائنس اور ادب میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ہمارا دین وہ ڈھال نہیں ہونا چاہیے جس کے پیچھے ہم دنیا سے چھپیں بلکہ یہ وہ طاقت ہونی چاہیے جو ہمیں اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر اور جدت پسند بنانے میں مدد کرے۔ یہی اسلام کی اصل روح ہے۔

سماجی خدمات کی مکمل اصلاحات

وزارتِ سماجی امور، خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ان پر ہونے والے مظالم کو نظرانداز کر رہی ہے۔ مظلوم خواتین جن پناہ گاہوں میں جا سکتی ہیں وہاں ان کو بار بار کہا جاتا ہے کہ پناہ مانگنے سے انہوں نے اپنے خاندانوں کی بے عزتی کروائی ہے۔

اگر وہ کسی بااثر خاندان سے تعلق رکھتی ہوں تو انہیں ایک طاقتور مرد کے خوف سے فوراً واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ نتیجاتاً ہمارے سامنے ایسی بہت سی مثالیں ہیں جہاں پڑھی لکھی خواتین کو ان پر ظلم کرنے والوں کے پاس واپس بھیجا گیا اور انہوں نے خود خوشی کر لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شہزادی بسمہ سعودی شاہی خاندان میں اپنا مقام بتاتی ہوئی۔

ہمیں آزادانہ خواتین کی پناہ گاہیں بنانا ہوں گی جہاں ان کے حقوق کو خاندانی روایات سے زیادہ طاقتور قوانین کا تحفظ حاصل ہو۔

وزارتِ نہ صرف خواتین کے حقوق کو پامال کرتی ہے بلکہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کی بھی ایک وجہ ہے۔ یہ ایک بے ایمان نظام ہے اور اس میں شفافیت کی کمی کی وجہ سے ہماری تقریباً آدھی آبادی غریب ہے حالانکہ ہم دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہیں۔

محرم کا کردار

سعودی عرب میں خواتین محرم کے بغیر پھر نہیں سکتیں۔

نبی کے وقت پر خواتین کے ساتھ کسی مرد کو بھیجا جاتا تھا مگر اس وقت کا عرب ایک قزاقوں سے لدے ہوئے دشت سے کم نہیں تھا۔

آج کی دنیا میں اس قانون کا مقصد صرف خواتین کی آمد و رفت کو محدود کرنا ہے۔ اس سے نہ صرف خواتین کی سوچ بچگانہ رہ جاتی ہے بلکہ وہ مردوں پر بھی بلا وجہ بوجھ بنتی ہیں۔

اس وقت سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

بظاہر مغربی مبصرین کے لیے یہ سب سے زیادہ تشویش کی بات ہے تاہم ابھی دوسرے اہم حقوق ہیں جن کی وصولی ضروری ہے۔

میں یقینی طور پر خواتین کے گاڑی چلانے کے حق میں ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ اس قانون کی تلفی کا یہ صحیح وقت نہیں۔ موجودہ حالات میں اگر کوئی خاتون گاڑی چلائے گی تو اس کو سبق سکھانے کے لیے بلا وجہ روکا یا مارا بھی جا سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ میں تب تک خواتین کے گاڑی چلانے کے خلاف ہوں جب تک ہم اتنے پڑھے لکھے نہ ہوں اور جب تک ہمارے پاس اس طرح کے پاگلپنے سے تحفظ کے لیے ضروری قوانین نہ ہوں۔ ورنہ تو یہ بلکل اس کے مترادف ہے کہ شدت پسندوں کو اجازت دے دی جائے کہ وہ ہمیں مزید تنگ کریں۔ اگر خواتین کے گاڑی چلانے پر انہیں تنگ کیا گیا تو وہ اسلامی دنیا سے کہیں گے کہ دیکھا خواتین کے گاڑیاں چلانے سے کیا ہوتا ہے، انہیں چھیڑا اور تنگ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد خواتین کو قابو کرنے کے لیے سخت تر قوانین کا مطالبہ آجائے گا اور یہ وہ چیز ہے جس کو ہم فی الوقت برداشت نہیں کر سکتے۔ چنانچہ اس اقدام سے پہلے قانون اور قوانین کی نظر میں خواتین کے بارے میں بنیادی تبدیلی ضروری ہے۔

بنیادی طور پر سعودی عرب میں تمام شہریوں کے حقوق اہم ہیں اور ان میں سے ہی خواتین کے حقوق رونما ہوں گے۔

اسی بارے میں