ابو حمزہ کی امریکہ کو حوالگی کی حمایت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حقوق انسانی کے لیے یورپی عدالت نے ابو حمزہ اور دہشت گردی کے چار دوسرے مشتبہ افراد کو برطانیہ سے امریکہ منتقل کرنے اجازت دے دی ہے۔

سٹراس برگ کی عدالت نے کہا ہے کہ وہ یہ سمجھتی ہے انتہائی کڑے حفاظتی انتظامات والی جیل میں منتقلی اور وہاں عمر اور تنہائی کی قید کاٹنے ان کے انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہو گی۔

جج نے کہا ہے کہ وہ اس مشتبہ شخص کے معاملے کا ضرور مزید جائزہ لیں گے جسے ذہنی صحت کا مسئلہ درپیش ہے۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ وہ اس خبر سے بہت خوش ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ ہمارے پاس ایک انتہائی مناسب قانونی نظام موجود ہے اگر چہ بعض اوقات حوصلے یہ دیکھ کر پست ہونے لگتے ہیں کہ معاملوں کو طے ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ 11/9 کے بعد یہ ایک اہم ترین فیصلہ ہے کیونکہ عدالت نے انتہائی کڑے حفاظتی انتظامات والی امریکی جیل میں انسانی حقوق کی توثیق کر کے برطانیہ کے لیے قریب ترین اتحادی ملک کو مشتبہ افراد کی منتقلی آسان بنا دی ہے۔

اگرچہ ابھی اس فیصلے کے خلاف عدالت کے ایوانِ بالا میں اپیل کی گنجائش ہے لیکن عملاً اب تک ہوا یہ ہے کہ بہت ہی کم فیصلوں کی ایوان بالا میں سماعت کی جاتی ہے۔

ملزمان کے پاس تین ماہ کے دوران عدالت کے ایوان بالا سے معاملے کو نئے سرے سے سننے اور اس کا جائزہ لینے کی اپیل کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر انہوں نے اس عرصے میں اپیل نہیں کی تو انہیں برطانیہ سے امریکہ منتقل کر دیا جائے گا۔

گزشتہ آٹھ سال سے کسی مقدمے کے بغیر حراست میں رہنے والے بابر احمد کے خاندان والوں کا کہنا کہ وہ امریکہ منتقلی کے خلاف مقدمہ لڑیں گے۔

گزشتہ ہفتے بابر احمد نے بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں اپیل کی تھی کہ ان کے خلاف مقدمہ برطانیہ ہی میں چلایا جائے کیونکہ ان پر جن مبینہ جرائم کا شک کیا جا رہا ہے ان کا تعلق بھی برطانیہ سے ہے۔

برطانوی وزیر داخلہ تھریسا مئے نے بھی یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ عدالت نے چھ میں سے پانچ معاملوں میں منتقلی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا صرف ایک معاملہ میں حتمی فیصلے سے پہلے مزید معلومات طلب کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں بات کو یقینی بنانے کو پوری کوشش کروں گی مشتبہ افراد کو امریکی حکام کے سپرد کرنے کارروائی جلد سے جلد ہو جائے‘۔

اسی بارے میں