الجیریائی رہنما احمد بن بلہ انتقال کرگئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احمد بن بلا نے ایک طویل عرصہ جلا وطنی کی زندگی گزاری

الجیریا کے پہلے صدر احمد بن بلہ طویل علالت کے بعد الجیرز میں اپنے گھر میں انتقال کر گئے ہیں۔

پچانوے سالہ احمد بن بلہ کو حال ہی میں نظام تنفس میں شکایت کی بنا پر ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

احمد بن بلہ الجیریا کو فرانس سے آزادی دلانے کے بعد انیس سو تریسٹھ میں الجیریا کے صدر بنے تھے۔

تین سال تک الجیریا کی واحد سیاسی جماعت کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ملک کے سربراہ بھی رہے لیکن اس کے بعد انہیں فوج نے اقتدار سے بے دخل کر دیا۔

الجیریا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کول آرنلڈ کے مطابق بن بلہ کے بہت سے پالیسیاں متازعہ رہی ہیں لیکن ان کو عوامی حلقوں میں ملک کو فرانس سے آزادی دلانے کی وجہ سے احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

بن بلہ انیس سو نوے کی دہائی میں ملک میں انتہا پسند عناصر اور فوج کے درمیان کشمکش کے دوران جمہوری نظام کے حامی اور معاشرے میں بڑھتے ہوئے مذہبی عناصر کے مخالف ہو گئے تھے۔

بن بلہ انیس سو سولہ میں مراکش کے دہی علاقے میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران فری فرنچ فورسز کی طرف سے لڑتے ہوئے بہادری کے جوہر دکھائے اور ان کارناموں کی وجہ سے انھیں شجاعت اور بہادری کے پانچ اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

جنگ کے بعد الجیریا واپس پہنچنے پر وہ فرانسیی حکومت سے مایوس ہو گئے۔ بن بلہ استعمار کے مخالف ’موومنٹ فار ٹرائمپف آف ڈیموکریٹک لبرٹیز‘ کی طرف سے کونسلر منتخب ہو گئے۔

جب اس جماعت کو کالعدم قرار دے دیا گیا تو بن بلہ روپوش ہو گئے۔

انیس سو اکاون میں انھیں گرفتار کیا گیا اور کچھ عرصہ حراست میں رہنے کے بعد وہ قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

قید سے فرار ہونے کے بعد وہ قاہرہ پہنچ گئے جہاں سے انھوں نے انیس سو چون میں عوامی بغاوت شروع کی جو بعد میں الجیریا کی جنگ آزادی میں بدل گئی۔

پابند سلاسل رہنے کے باوجود آزادی کی طویل جدوجہد کے دوران انھیں تحریک آزادی کا بلا شرکتِ غیر قائد بھی تسلیم کیا جاتا رہا۔

اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے بعد الجیریا کی فوج نے بھی انھیں کئی سال تک قید اور نظر بند رکھا اور انیس سو اسی میں انھوں نے سوئٹزرلینڈ میں جلا وطنی اختیار کر لی۔ انھیں انیس سو نوے میں معافی ملی۔ الجیریا کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ان کی وفات ہوئی ہے۔