شمالی کوریا کا راکٹ تجربہ ’ناکام‘ رہا

Image caption شمالی کوریا کے اس تجربے پر عالمی برادری کی جانب سے تنقید کی جا رہی تھی

شمالی کوریا نے عالمی برادری کی تنقید اور مخالفت کے باوجود طویل فاصلے تک جانے والے سیٹلائٹ راکٹ کا تجربہ کیا ہے تاہم اطلاعات ہیں کہ یہ تجربہ ناکام رہا ہے۔

سیول میں جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع کے ترجمان کم من سیوک نے صحافیوں کو بتایا کہ راکٹ جمعہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق سات بج کر انتالیس منٹ پر چلایا گیا۔

اس راکٹ کا تجربہ تین مراحل پر مشتمل تھا۔ اسے لانچ کے مقام سے اٹھ کر جزیرہ نما کوریا کے مغربی ساحل کی جانب جانا تھا جہاں اس کا پہلا حصہ اس سے الگ ہوتا۔ اس کے بعد اسے تائیوان اور جاپانی جزیرے اوکیناوا کے درمیان سفر کرتے ہوئے فلپائن کے قریب اپنا دوسرا مرحلہ مکمل کرنا تھا۔

تاہم جاپان اور جنوبی کوریا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق راکٹ پرواز کے ڈیڑھ منٹ بعد سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا جبکہ امریکہ کا کہنا ہے وہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ تجربے کے دوران کیا ہوا۔

شمالی کوریا کی جانب سے تاحال راکٹ کے تجربے کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

جنوبی کوریا اور جاپان نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اگر یہ راکٹ ان کی حدود میں داخل ہوا تو وہ اسے مار گرائیں گے۔

جنوبی کوریا کی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ راکٹ کا تجربہ ناکام رہا ہے اور وہ پرواز کے منٹوں بعد ہی ٹوٹ پھوٹ گیا۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق راکٹ کی پرواز کو نوے سیکنڈ ہی گزرے تھے کہ توقع سے بڑا شعلہ دیکھا گیا۔

ادھر نیویارک میں سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے اس تجربے پر بات چیت کے لیے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جمعہ کو ہوگا۔

پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ اس راکٹ سے ایک مصنوعی سیارے کو خلاء میں بھیجا جانا تھا لیکن اس پر نکتہ چینی کرنے والوں کو اس بات کا خدشہ تھا کہ یہ ایک دورمار میزائل کی ٹیکنالوجی کا تجربہ ہو سکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت شمالی کوریا پر بیلسٹک میزائلوں کے تجربات پر پابندی عائد ہے تاہم شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ روانہ کرنے کا معاملہ ایک الگ چیز ہے۔

شمالی کوریا کے اس تجربے پر عالمی برادری کی جانب سے تنقید کی جا رہی تھی۔ جنوبی کوریا نے کہا تھا کہ اس طرح کی کارروائی سے شمالی کوریا عالمی سطح پر مزید الگ تھلگ پڑ جائےگا۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی اس تجربے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا اپنی عوام کے لیے پرامن اور بہتر مستقبل چاہتا ہے تو اسے راکٹ نہیں چلانا چاہیے۔ انہوں نے اس قدم کو خطے کی سکیورٹی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا تھا۔

تاہم شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ یہ سیٹلائٹ پرامن مقاصد کے لیے اور شمالی کوریا کے بانی کم اِل سنگ کی سوویں سالگرہ کے موقع پر مدار میں بھیجی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں