ٹائٹینک کی غرقابی کی صد سالہ برسی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اپنے پہلے ہی سفر کے دوران ایک برفانی تودے سے ٹکرا کر ڈوب جانے والے بحری جہاز ٹائٹینک کے حادثے کی صد سالہ برسی کی تقریبات دنیا بھر میں منعقد ہو رہی ہیں۔

حادثے کے سو برس مکمل ہونے پر ٹائٹینک کی یاد میں تعمیر کیے جانے والے ایک باغ کو عوام کے لیے کھولا گیا ہے۔ اس باغ میں حادثے میں ہلاک ہونے والے ایک ہزار پانچ سو بارہ افراد کے نام کانسی کے پانچ تختوں پر کندہ ہیں۔

یہ باغ اسی جگہ پر تعمیر کیا گیا جہاں سے ٹائٹینک نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔

ٹائٹینک نے امریکی شہر نیویارک کے لیے اپنے سفر کا آغاز برطانوی شہر ساؤتھمپن سے کیا تھا اور اسی سلسلے میں وہاں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا

اس کے علاوہ شمالی بحر اوقیانوس میں اس مقام پر ایک تقریب منعقد ہوئی ہے جہاں یہ جہاز ڈوبا تھا۔ اس مقصد کے لیے ایم ایس بالمورل نامی ایک خصوصی جہاز ٹائٹینک کی طرح ایک ہزار تین سو نو مسافر لے کر حادثے کے مقام پر پہنچا ہے۔

اس جہاز وہی راہ اختیار کی جس پر ٹائٹینک نے سفر کیا تھا۔

اس یادگار سفر میں بیس سے زیادہ ممالک سے تعلق رکھنے والے مسافر شریک ہیں جن میں حادثے سے بچ جانے والوں کے اہلِ خانہ، مصنفین، تاریخ دان اور ٹائٹینک کی کہانی میں دلچسپی رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔

اس سفر کے دوران مسافروں کو وہ کھانے کھلائے گئے جو ٹائٹینک کے اصل مینیو میں شامل تھے جبکہ سفر کے دوران ماہرین نے مسافروں کو اس جہاز کی کہانی کے مختلف حصوں سے متعارف کروایا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے ٹائٹینک کے ملبے کو تحفظ دینے کا اعلان کیا ہے۔

یونیسکو نے ملبے کو دو ہزار ایک کے اس کنونشن کی فہرست میں شامل کیا ہے جو زیرآب ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اب تک سات سو سے زیادہ غوطہ غور کینیڈا کے ساحل کے قریب سمندر میں چار ہزار میٹر گہرائی میں موجود جہاز کے ملبے کا دورہ کر چکے ہیں اور وہ اپنے ساتھ ملبے میں موجود نوادرات بھی لے گئے ہیں۔

اسی بارے میں