شام: اقوام متحدہ کے مبصرین دمشق پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شام میں امن معاہدے کے تحت ہونے والی فائر بندی کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے مبصرین کی ایک ٹیم دمشق پہنچ گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کیرن ڈوائر کا کہنا ہے کہ ٹیم میں شامل چھ غیر مسلح مبصرین پیر سے اپنے کام کا آغاز کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے مزید چوبیس مبصرین اگلے چند دنوں تک شام پہنچیں گے۔

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے صنعا نیوز کے مطابق مصبرین کو ملک میں آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ مسلح گروہوں کے جانب کیے جانے والے جرائم کا مشاہدہ کریں گے۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے حمص شہر میں شامی فوج کی گولہ باری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے کہا ہے کہ وہ فائر بندی کا احترام کریں۔

انہوں نے کہا’ یہ بہت اہم ہے کہ شامی حکومت تشدد کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے، سنیچر سے اتوار تک وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر انہیں گہری تشویش ہے۔‘

سیکرٹری جنرل کے مطابق’ شامی حکومت حمص شہر میں گولہ باری کرا رہی ہے اور ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ وہاں اموات ہوئیں ہیں اور میں سختی سے کہتا ہوں کہ تشدد کو بند رکھنے کے وعدے کو پورا کیا جائے۔‘

دوسری جانب شام میں حزب مخالف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ فائر بندی کے بعد حمص شہر پر شامی فوج کی گولہ باری میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حمص پر ہر ایک منٹ میں ایک گولہ فائر کیا گیا۔

اس سے پہلے شام کے لیے عرب لیگ اور اقوامِ متحدہ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے فائر بندی کی نگرانی کے لیےدو سو سے زائد مبصرین کی شام میں تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے اور سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم اس کے لیے ادارے کی منظوری ضروری ہوگی۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں فائر بندی کی نگرانی کے لیے تیس غیر مسلح مبصرین کی ایک ایڈوانس ٹیم کی تعیناتی کے لیے پیش کی گئی قرارداد کی منظوری دے دی تھی۔

کوفی عنان کے امن منصوبے کے مطابق شام میں گزشتہ ایک سال سے جاری تشدد کا فوری خاتمہ شامل ہے جس کے دوران اب تک نو ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں