ابو قتادہ کی ملک بدری روک دی گئی

ابو قتادہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ابو قتادہ کو اردن میں بم حملوں کی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کا سامنا ہے

حقوقِ انسانی کی یورپی عدالت نے حکم دیا ہے کہ ریڈیکل مبلغ ابو قتادہ کو ابھی برطانیہ سے ملک بدر نہیں کیا جا سکتا۔ یورپی عدالت نے یہ حکم ابو قتادہ کی طرف سے ملک بدری کی اپیل پر دیا۔

یہ اپیل گزشتہ رات ڈیڈ لائن کے ختم ہونے سے پہلے دائر کی گئی تھی۔

اس کا مطلب ہے کہ ملک بدری کا عمل اس وقت تک شروع نہیں کیا جا سکتا جب تک ججوں کا پینل یہ فیصلہ نہ کرے کہ اس مقدمے کو عدالت کے ’گرینڈ چیمبر‘ میں بھیجنا چاہیے کہ نہیں۔

برطانیہ کی سیکرٹری داخلہ ٹریسا مے نے منگل کو یہ تسلیم کیا تھا کہ اگر اپیل دائر کی گئی تو ابو قتادہ کو ملک بدر کرنے کے عمل میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

اکیاون سالہ ابو قتادہ کو اردن میں بم حملوں کی منصوبہ بندی جیسے الزامات کا سامنا ہے۔

سیکرٹری داخلہ نے دارالعوام میں ارکانِ پارلیمان کو بتایا کہ اردن نے برطانیہ کو ایک بار پھر یقین دہانی کروائی ہے کہ ریڈیکل مبلغ کے ساتھ انصاف کیا جائے گا اور ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔

گزشتہ جنوری کو برطانیہ کی ایک عدالت نے ابو قتادہ کی چھ سالہ حراست اس وقت ختم کر دی تھی جب انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے ابو قتادہ کو اردن ملک بدر کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔

اردن کے وزیر قانون ایمن اودھ نے اس وقت بھی یقین دلایا تھا کہ گزشتہ سال ستمبر میں اردن کے آئین میں ایک ترمیم کی گئی تھی تاکہ تشدد کے ذریعہ حاصل کیے گئے شواہد کے استعمال کو روکا جا سکے۔

اسی بارے میں