’زہریلا‘ پانی پینے سے ایک سو طالبات متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

افغانستان کے صوبے تخار میں سکول کی ایک سو طالبات کو حالت خراب ہونے پر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

صوبے کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ سکول میں پانی پینے کے فوری بعد ان طالبات کی حالت خراب ہو گئی۔

کابل میں محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی میں زہر ملایا گیا تھا۔

صوبہ تخار کے حکام کے مطابق اس واقعے میں وہ لوگ ملوث ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔

اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں لیکن ان میں زہر دینے کے واضح شواہد نہیں مل سکے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ چالیس طالبات کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ خاتون ٹیچرز سمیت ایک سو طالبات ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

حکام کے مطابق ان طالبات اور ٹیچرز نے متلی، سردرد اور چکر آنے کی شکایت کی تھی۔

صوبہ تخار میں محکمہ تعلیم کے ترجمان کے مطابق متاثرہ طالبات اور ٹیچرز کی عمریں چودہ سے تیس برس تک ہیں۔

ترجمان کے مطابق اس واقعے میں وہ تنگ ذہن لوگ ملوث ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔

اسی بارے میں