افغانستان: انخلا کے بعد کی صورتحال پر بحث

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طے شدہ منصوبے کے تحت اتحادی افواج نے سال دو ہزار چودہ کے آخر تک افغانستان سے نکلنا ہے

نیٹو کے سکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ 2014 میں غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد بین الاقوامی برادری افغان سکیورٹی فورسز کی طرف مزید مثبت رویہ رکھے گی۔

برسلز میں نیٹو کے وزرا کے اجلاس میں سکریٹری جنرل انہرس فو راسموسن نے نیٹو اتحادیوں اور شرکت داروں سے کہا کہ وہ مستقبل کی کسی حتمی تاریخ کے وعدے سے پہلے افغان فورسز کے مجموعی بنیادی ڈھانچے کو فنڈ کرنے کا وعدہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ افغان سیکورٹی کے اخراجات کا تخمینہ سالانہ چار ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

وہ امید کرتے ہیں کہ برسلز اجلاس میں افغان فورسز کے ڈھانچے اور تعداد کے متعلق تصویر واضع ہو جائے گی۔

افغانستان کی سکیورٹی فورسز کو وسائل فراہم کرنے کے مسئلے پر نیٹو کے وزرا خارجہ اور دفاع کا برسلز میں اجلاس ہو رہا ہے۔

اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد افغان سکیورٹی فورسز کو وسائل مہیا کرنے کا کیا طریقہ کار ہو گا۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اتوار کو طالبان کے منظم حملوں کے باوجود انخلا کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔

توقع ہے کہ امریکہ اجلاس میں اپنے اتحادیوں پر زور دے گا کہ وہ افغان سکیورٹی فورسز کو سال میں ایک ارب ڈالر فراہم کریں جبکہ امریکہ اس وقت تین ارب ڈالر کی رقم فراہم کر رہا ہے۔

اجلاس میں آئندہ ماہ امریکی شہر شکاگو میں افغانستان کی صورتحال پر منعقد ہونے والے اجلاس کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔

بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگاروں کے مطابق اس وقت نیٹو کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ انخلا کے منصوبے کے حوالے سے افغانستان میں فوجی اتحاد کو اکٹھا رکھنا ہے۔

منگل کو آسٹریلیا نے طے شدہ منصوبے سے پہلے سال دو ہزار تیرہ کے آخر تک اپنی فوج کو افغانستان سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے علاوہ افغانستان میں اتحادی کینیڈا، فرانس اور نیدرلینڈ نے بھی طے شدہ منصوبے سے پہلے فوجیوں کو نکالنے کے اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔

خیال رہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران افغان فوج کی تعداد تین لاکھ پچاس ہزار تک پہنچ جائے گی۔

افغان سکیورٹی فورسز کو امریکہ کی جانب سے ہی زیادہ تر تربیت اور دیگر لوجسٹک سپورٹ دی جا رہی ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں میں افغان فوج کی تعداد میں کمی کر کے اس کی تعداد دو لاکھ تیس ہزار تک کر دی جائے گی۔

امریکہ کے اس اعلان پر افغانستان میں سکیورٹی ماہرین نے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

اسی بارے میں