خفیہ فائلوں میں براک اوباما کے والد کا نام

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تیئس برس کی عمر میں براک ایچ اوباما امریکی تعلیمی ادارے کے پہلے افریقی طالبِ علم تھے

لندن میں قومی آرکائیو کی جاری کی گئی خفیہ فائلوں سے یہ بات سامنےآئی ہے کہ امریکی حکام نے کینیا میں طالبعلموں کے سفید فام مخالف نظریات کے بارے میں اس وقت خدشات ظاہر کیے تھے جب امریکی صدر براک اوباما کے والد یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے۔

براک اوباما نے اپنی یادداشت ’ڈریم فرام مائی فادر‘ میں اپنے والد کی امریکہ میں تعلیم کے بارے میں فخریہ انداز میں تذکرہ کیا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ان کے والد کو کینیا کے رہنماؤں اور امریکی سپانسرز نے کس طرح ایک امریکی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے منتخب کیا تاکہ وہ افریقیوں کے اس پہلے گروپ میں شامل ہوسکیں جو مغربی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے کے بعد جدید افریقہ کی تشکیل کرسکیں۔

تاہم خارجہ اور دولتِ مشترکہ کے دفتر سے جاری ہونے والے ریکارڈ کے مطابق، کینیا میں برطانوی کالونی کے حکام اور امریکی وزارتِ خارجہ کے حکام کو کینیا کے طالبعلموں کی پہلی لہر پر تشویش تھی جس کا حصہ براک اوباما سینیئر تھے۔

اس فائل میں کینیا کے جن طالبعلموں نے امریکہ میں سنہ انیس سو انسٹھ میں تعلیم شروع کی ان میں ’اوباما براک ایچ‘ کا نام بھی شامل ہے جسے یونیورسٹی آف ہوائی میں دکھایا گیا ہے۔ تیئس برس کی عمر میں وہ اِس ادارے کے پہلے افریقی طالبِ علم تھے۔

’سفید فام مخالف‘

افریقی امریکی طلباء فاؤنڈیشن نے اس زمانے میں فنڈز جمع کرنے شروع کیے اور اپنی مہم کے دوران انہوں نے کہا کہ کینیا میں افریقیوں کے لیے اعلٰی تعلیم کے مواقع مفقود ہیں۔

اُس وقت برطانوی حکام اس عمل پر مشتعل ہوگئے تھے۔ واشنگٹن میں برطانوی سفارتخانے کے دفترِ اطلاعات نے سنہ انیس سو انسٹھ میں ایک بیان میں کہا تھا ’یہ قطعی درست بات نہیں ہے۔‘

ایک سفارتکار نے کہا تھا کہ کینیا کی حکومت کی جانب سے مہیا کیے جانے والے فنڈ کے تحت چار سو اکیاون کینیائی طالبِ علم افریقہ، برطانیہ اور کینیڈا میں اعلٰی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

انہوں نے امریکی یونیورسٹیوں کی جانب سے سکالرشپ دیے جانے والے طالبعلموں کی قابلیت کے بارے میں سوال بھی اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ وہ کینیائی طالبعلم جو امریکہ جا رہے ہیں انہوں نے کم گریڈ میں کامیابی حاصل کی جبکہ جو اعلٰی گریڈ میں کامیاب ہوئے وہ افریقہ میں ہی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ تعلیمی سکیم کے سپانسروں نے ذاتی طور پر اِن طالبعلموں کو منتخب کیا جو ان کے قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے دعوٰی کیا تھا کہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اِن طالبعلموں کا امریکی درسگاہوں کے لیے منتخب کیا جانا تعلیمی مقصد سے زیادہ سیاسی ہے۔

فائلوں میں کہا گیا کہ ایسے طالبعلموں کی آمد جو تعلیمی قابلیت میں کم درجہ پر فائز ہیں ایک مشکل صورتِ حال کو تقویت بخشتی ہے۔

لندن اور نیروبی بھیجے گئے ایک ٹیلیگرام کے مطابق، واشنگٹن میں برطانوی سفارتخانے نے امریکی وزارتِ خارجہ سے مشورہ کیا تھا اور ’وہ بظاہر اسی طرح فکرمند تھے جیسے ہم تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی حکام نے برطانوی سفارکاروں کو بتایا تھا کہ کینیا کے طالب علموں کی ساکھ خراب ہے اور وہ غلط ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جس کے باعث وہ امریکی مخالف اور سفید فام مخالف جذبات کے حامل بن رہے ہیں۔

تاہم دونوں یعنی برطانوی اور امریکی حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔

ایک اہلکار نے تحریر کیا ’ہم زیادہ سے زیادہ یہ امید کر سکتے ہیں یہ کہ اُن (طالبعلموں) پر دباؤ قائم رکھیں جب تک وہ یہاں (امریکہ میں) ہیں۔‘

اس بارے میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں کہ آیا براک ایچ اوباما سے کسی برطانوی سفارکار نے رابطہ کیا تھا۔

انہوں نے امریکہ میں اپنی تعلیم جاری رکھی تھی اور سنہ انیس سو اکسٹھ میں این درہم سے شادی کی تھی جنہوں نے اُسی سال کے آخر میں اپنے بیٹے براک اوباما کو جنم دیا تھا۔