حوالگي پر جیک سٹرا کے خلاف قانونی کاررائي

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بالحدج جننا چاہتے ہیں کہ انکی حوالگی کے پیچھے کون تھا

لیبیا کے ایک ملٹری کمانڈر عبدالحكيم بلحلاج اپنی اور اپنی بیوی کی غیر قانونی حوالگی کے حوالے سے برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جیک سٹرا کے خلاف قانونی کر رہے ہیں۔

عبدالحكيم بلحلاج کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئي اے کے ایجنٹ انہیں تھائی لینڈ سے برطانیہ کے کنٹرول والے جزیرے ڈیگو گارشیا اور اس کے بعد لیبیا لےگئے تھے۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے ان کی غیر قانونی حوالگي سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جس میں دعوی کیا گيا تھا کہ بلحلاج کی حوالگي کی اجازت اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے دی تھی۔

اسی خبر کے بعد بلحلاج کے وکلا نے جیک سٹرا کو قانونی نوٹس جاری کیا ہے۔ برطانوی حکام نے بلحلاج کی غیر قانونی حوالگی میں ملوث ہونے یا انہیں ٹارچر کرنے جیسے کسی بھی عمل سے انکار کیا ہے۔

لیکن خود جیک سٹرا اس مسئلے پر خاموش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ غیر قانونی حوالگی سے متعلق برطانیہ کے کردار کے بارے میں پولیس کی تفتیش جاری ہے اس لیے وہ اس پر کچھ نہیں کہیں گے۔

اس سے پہلے بی بی سی نے بھی اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ برطانیہ کی حکومت نے ہی کرنل معمر قذافی کو بلحلاج اور ان کی بیوی فاطمہ بشر کی غیر قانونی حوالگی کی منظوری دی تھی۔ لیکن یہ تفصیل سامنے نہیں آئی کہ آخر یہ کس سطح پر کیا گيا تھا۔

پندرہ اپریل کو سنڈے ٹائمز نے اپنے خصوصی ذرائع سے یہ خبر شائع کی کہ اس کی اجازت ذاتی طور پر خود جیک سٹرا نے دی تھی۔

منگل کو بلحلاج کے وکلا نے لیہ ڈے اینڈ کمپنی کی طرف سے سنڈے ٹائمز کا حوالہ دیتے ہوئے جیک سٹرا کو قانونی نوٹس جاری کیا اور ان سے اس بارے میں جواب طلب کیا۔

بلحلاج اور اور ان کی اہلیہ فاطمہ کا الزام ہے کہ ان کے ساتھ تھائی، لیبیائی حکام اور امریکی ایجنٹوں نے جو غیر انسانی سلوک کیا اور ٹارچر کیا اس میں جیک سٹرا بھی ملوث تھے۔

قانونی کارروائی میں جیک سٹرا سے نقصان کی تلافی کے لیے ہرجانے کا بھی دعوی کیا گيا ہے۔ برطانیہ کی ہائی کورٹ میں حکومت، سکیورٹی فورسز اور خفیہ ادارے ایم آئی 6 کے ایک افسر سر مارک کے بھی خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا گيا ہے۔

بلحلاج کے وکلا کے مطابق جیک سٹرا پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں اس کے جواب کے لیے ان کے پاس عام طور پر چھ ماہ کا وقت ہوتا ہے لیکن اس کے لیے انہیں سترہ مئی تک کا وقت دیا گیا اور اس کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی خود بخود شروع ہو جائیگي۔

گروپ کی ایک وکیل سپنا ملک نے کہا اگر سابق وزیر خارجہ اب اس غیر معمولی مسئلے کو تسلیم نہیں کرتے تو پھر انہیں عدالت میں اپنی پوزیشن کا دفاع کرنا پڑ سکتا ہے۔

دو ہزار چار میں بلحلاج لیبیا میں کرنل معمر قذافی کے خلاف ’لیبین اسلامک فائٹنگ گروپ‘ کے لیڈر تھے اور جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی5 کو یقین تھا کہ یہ گروپ القا‏عدہ سے قریب ہے۔

بلحلاج اور ان کی بیوی جب برطانیہ میں سیاسی پناہ کے لیے آ رہے تھے تو سی آئي اے کے ایجنٹوں نے بینکاک سے انہیں گرفتار کیا تھا۔ بلحلاج کے مطابق جس طیارے سے انہیں لیبیا بھیجا گيا اس طیارے نے برطانیہ کے ڈیگو گارشیا جزیرے پر ہی ایندھن بھرا تھا۔

بلحلاج اور ان کی بیوی کا کہنا ہے کہ حوالگي کے دوران اور لیبیا میں انہیں ٹارچر کیا گيا تھا جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گيا۔

اسی بارے میں