حزب اللہ کی شام میں ثالثی کی پیشکش

شیخ حسن نصر اللہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہمارے خیال میں صدر اسد اصلاحات کے عمل کے لیے بہت سنجیدہ ہیں۔

لبنانی شدت پسند گروپ حزب اللہ کے رہنما نے کہا ہے کہ شام کی لڑائی میں وہ ایک ثالث کا کردار ادا کریں گے۔چھ سالوں میں عالمی سطح پر یہ ان کا پہلا انٹرویو ہے۔

شیخ حسن نصراللہ نے شام کے مسئلے کے سیاسی حل کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس لڑائی میں ثالث کا کردار ادا کر کے ان کے گروپ کی بہت خوشی ہوگی۔

حزب اللہ کے رہنما کا یہ انٹرویو وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ نے ایک روسی کیبل ٹی وی کے لیے کیا ہے۔

شام کے اس بحران میں حزب اللہ نے ابتدا سے ہی شام کے صدر بشارالاسد کی حمایت کی ہے۔

ایک خفیہ مقام سے جاری اس انٹرویو میں حسن نصر اللہ نے بتایا کہ انہوں نے شام کی حزبِ اختلاف سے بات کی ہے تاہم وہ بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش جاری ہے لیکن ہماری اپیل ہے کہ دوسرے لوگ بھی اس مسئلے کے سیاسی حل کی کوشش کریں۔

جولین اسانژ نے یہ انٹرویو برطانیہ میں ایک خفیہ مقام سے کیا تھا جہاں وہ جنسی زیادتی کے الزامات پر اپنی سویڈن حوالگی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

یہ انٹرویو کئی ہفتے پہلے ریکارڈ کیا گیا تھا۔جب کوفی عنان کی ثالثی سے اقوامِ متحدہ کے امن منصوبے پر معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

اس انٹرویو کا مرکز شام تھا جس میں حسن نصراللہ نے بتایا کہ ان کا گروپ شام کی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے خیال میں صدر اسد اصلاحات کے عمل کے لیے بہت سنجیدہ ہیں۔

جولین اسانژ کے اس سوال پر کہ حزب اللہ کو مغرب یا خلیجی ممالک کا نہیں بلکہ بشار الاسد کے حامی کے طور پر دیکھا جائے گا مسٹر حسن نے کہا کہ حزب اللہ شام کا ’دوست ہے اس کا ایجنٹ نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ القاعدہ نے شام میں لڑائی کے لیے اپنے شدت پسند بھیجے ہیں۔