اسد کی اہلیہ سے سفارتکاروں کی بیگمات کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چار منٹ کی اس ویڈیو میں شام کی خاتونِ اول اسماء کو براہِ راست مخاطب کیا گیا ہے

اقوامِ متحدہ میں جرمن اور برطانوی سفارتکاروں کی بیگمات نے ایک ویڈیو جاری کر کے شام کی خاتونِ اول اسماء سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ملک میں جاری خوں ریزی کو ختم کرنے میں مدد کریں۔

یو ٹیوب پر لگائی جانے والی اس ویڈیو میں اسماء سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے شوہر بشارالاسد سے کہیں کہ وہ شام میں جاری تشدد کو بند کریں۔

ویڈیو میں ایک طرف اسماء کی گلیمرس تصاویر دکھائی گئی ہیں تو دوسری جانب شام کے ہلاک اور زخمی بچوں کی ویڈیو ہے۔

سفارتکاروں کی بیگمات ہبرتا وون روس وٹنگ اور شیلا لائل گرانٹ کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو انہوں نے اپنی مرضی سے جاری کی ہے۔

چار منٹ کی اس ویڈیو میں شام کی خاتونِ اول اسماء کو براہِ راست مخاطب کیا گیا ہے۔

ویڈیو میں ہلاک اور زخمی بچوں کی ویڈیو دکھاتے ہوئے اسماء سے کہا گیا ہے کہ یہ تمام بچے ان کے بھی ہو سکتے ہیں۔

سابق سفارتکاروں کی بیگمات نے اسماء سے اپیل کی کہ وہ ’امن کے تحفظ‘ کے لیے اٹھ کھڑی ہوں۔

ویڈیو میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ شام میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے اسماءکو لکھے گئے اس آن لائن خط پر دستخط کر کے اس مہم میں شامل ہوں۔

اسماء برطانیہ میں پیدا ہوئیں اور یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوئی اور مغربی میڈیا میں عموماً ان کی اچھی شبیہہ پیش کی جاتی رہی ہے۔

لیکن فروری 2011 میں برطانیہ کے اخبار ’گارڈین ‘ میں صدر بشارالاسد کے نجی اکاؤنٹس سے متعلق ای میل شائع کی گئی تھی جس میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ شام میں جاری تشدد کے دوران بھی اسماء کس طرح بیش قیمتی ملبوسات، زیورات ڈیزائنرفرنیچر اور دیگر قیمتی اشیاء کی خریدار میں مصروف تھیں۔

اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق شام میں جاری تشدد میں اب تک نو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں