بریوک کا منصوبہ ’تین کار بم‘ حملوں کا تھا

بریوک تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بریوک اب استغاثہ کے سبھی سوالوں کا جواب دے رہے ہیں

گزشتہ جولائی ناروے میں ستتر افراد کو ہلاک کرنے والے انرش بہرنگ بریوک نے مقدمے کے دوران عدالت کو بتایا ہے کہ ان کا ابتدائی طور پر منصوبہ تین کار بم چلانے کا تھا۔

لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ تین بم بنانا اتنا آسان نہیں جتنا کہ انہیں لگتا تھا تو انہوں نے ایک ہی بم چلایا۔ اوسلو شہر میں چلائے جانے والے اس کار بم دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انہوں نے نفسیاتی ماہرین کی اس رپورٹ کو لغو کہا جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی دماغی حالت درست نہیں۔

اس سے قبل انہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے اپنی کارروائی کی منصوبہ بندی کے لیے ایک سال کی ’چھٹی‘ لی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بائیس جولائی دو ہزار گیارہ سرکاری عمارت کے سامنے کار بم دھماکہ کرنے سے پہلے انہوں نے کمپیوٹر گیمز پر اس کی ریہرسل کی تھی۔

بریوک نے کہا کہ ان کے ابتدائی اہداف میں سرکاری صدر دفاتر، لیبر پارٹی کے دفاتر اور شاہی قلعہ تھا لیکن شاہی خاندان ان کا ہدف نہیں تھا۔

انہوں نے کار بم حملے کے بعد یوٹویا جزیرے میں لیبر پارٹی کے موسمِ گرما کے کیمپ کو نشانہ بنایا جہاں انہوں نے انہتر افراد کو ہلاک کیا جس میں سے اکثریت نوجوانوں کی تھی۔

بریوک نے وکیلِ استغاثہ کو بتایا کہ یوٹویا کو نشانہ بنانے کا خیال ان کے ذہن میں اس وقت آیا جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ ایک سے زیادہ بم بنانا ان کے لیے ناممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک ہدف بم کا ہو گا اور ایک ’فائرنگ کی کارروائی پر مبنی‘ ہو گا۔

انہوں نے صحافیوں کی کانگرس اور لیبر پارٹی کی موسمِ گرما کی کانفرنس کو نشانہ بنانے کا بھی سوچا۔

بریوک نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دو ہزار دس میں گن کلب کی رکنیت لی۔

انہوں نے کہا کہ دو ہزار چھ سے ہی ’خودکش کارروائی‘ کے منصوبے کی تیاری شروع کر دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے زندہ بچ جانے کی امید صرف پانچ فیصد تھی۔

اس مرتبہ عدالت میں آنے کے بعد بریوک نے دائیں بازو کا سلام نہیں کیا، جس طرح کے پہلی پیشیوں میں وہ کر رہے تھے۔ ان کے وکلا نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ اب ایسا نہ کریں۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یورپ میں شدت پسند قوم پرست تقسیم ہیں۔

’ان میں سے آدھے چاہتے ہیں کہ ہمیں مسلمانوں اور اقلیتوں کو نشانہ بنانا چاہیے جبکہ باقیوں کا خیال ہے کہ ہمیں امرا اور (اس بات کے) ذمہ داروں پر حملے کرنا چاہیں۔‘

بریوک کی شہادت پانچ دن تک جاری رہے گی اور پیر کے روز مکمل ہو گی۔

اسی بارے میں