برطانیہ: سن اخبار کے صحافی گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption روپرٹ مرڈوک کے اخبارات دی سن، دی ٹائمز اور سنڈے ٹائمز میں کام کرنے والے صحافیوں کے خلاف پولیس اہلکاروں اور دوسرے سرکاری ملازمین کو رشوت دینے کے الزامات کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

برطانیہ میں پولیس نے صحافیوں کی جانب سے پولیس اور دوسرے سرکاری ملازمین کو رشوت دینے کے الزام میں سن اخبار کے ایک صحافی اور فوج کے ایک سابق اہلکار کو گرفتار کر لیا ہے۔

برطانیہ میں صحافیوں کے جانب سے معلومات حاصل کرنے کے لیے رشوت دینے کے معاملے کی تحقیقات گزشتہ برس جولائی سے جاری ہیں۔ اِن تحقیقات کے نتیجے میں اب تک چھبیس افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پولیس نے کینٹ اور لنکاشائر میں دو گھروں کی تلاشی بھی لی جس کے بعد ایک تیسرے شخص کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نیوز کارپوریشن کی جانب سے معلومات فراہم کیے جانے کے بعد یہ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔

روپرٹ مرڈوک کے ادارے نیوز کارپوریشن نے اپنے اخبارات میں اندرونی طور پر تحقیقات کرانے کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے۔ فون ہیکنگ سکینڈل میں اسی ادارے کے صحافی ملوث ہیں۔

ادارے نے تصدیق کی ہے کہ سن اخبار کے ایک صحافی کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن صحافی کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔

نیوز کارپوریشن کی سٹینڈرڈ کمیٹی پولیس کے ساتھ کام کر رہی ہے تا کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مسٹر مرڈوک کے اخبارات دی سن، دی ٹائمز اور سنڈے ٹائمز میں کام کرنے والے صحافی پولیس اہلکاروں اور دوسرے سرکاری ملازمین کو رشوت دینے میں ملوث ہیں یا نہیں۔

گزشتہ برس اخبار نیوز آف دی ورلڈ پر جرائم کا شکار ہونے والے افراد، مشہور شخصیات اور سیاستدانوں کے فون ہیک کرنے کا الزام سامنے آیا جس کے بعد یہ اخبار بند کر دیا گیا۔۔ پولیس ایسے چار ہزار سے زائد افراد کے ناموں کی نشاندہی کر چکی ہے جو ممکنہ طور پر فون ہیکنگ کا نشانہ بنے۔