شام تشدد کے خاتمے میں پھر ناکام: بان کی مون

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیش رفت کا موقع اب بھی موجود ہے: بان کی مون

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام امن منصوبہ کے تحت شہری علاقوں سے فوج اور بھاری ہتھیاروں کو ہٹانے کے لیے اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہوگیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شام میں بھیجے گئے مبصرین کے وفد کے ارکان کی تعداد تین سو تک کی جائے۔

اس سے قبل شام نے کہا تھا کہ وہ مبصرین کی تعداد دو سو پچاس تک کرنے کے لیے رضامند ہے۔

ابتدائی مرحلے میں ٹیم کے چھ ارکان امن منصوبے کے تحت شام پہنچ چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں منظور شدہ قرار داد کے بعد اور امن منصوبہ طے پانے کے باوجود فائر بندی کی خلاف ورزی کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

بان کی مون نے کہا کہ دو طرفہ امن معاہدے کے بعد فریقین تشدد کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارہ اپریل کو جس دن کوفی عنان کا پیش کردہ امن منصوبہ نافذ العمل ہوا تھا، تشدد کے واقعات میں خاطر خواہ کمی آئی تھی۔

تاہم انہوں نے کہا پرتشدد واقعات اور تصدیق شدہ اموات میں حالیہ دنوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے لہذٰا ہر قسم کے مسلح تشدد کا خاتمہ اب تک نامکمل ہے۔

تشدد اور صورتحال کی نزاکت کے باوجود بان کی مون نے کہا ’پیش رفت کا موقع اب بھی موجود ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جمعرات کی شام کو متوقع ہے جس میں کوفی عنان کی رپورٹ پر بحث کی جائے گی۔ تاہم شام پر نئی قرارداد پر ووٹنگ اگلے ہفتے ہی ممکن ہو سکے گی۔

شام میں حزبِ اختلاف اور شامی گروپ کے دوستوں کا اجلاس جمعرات کو پیرس میں ہورہا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں موجود بی بی سی کی باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ بان کی مون چاہتے ہیں کہ حالات کو دیکھتے ہوئے آنے والے ہفتوں میں مبصرین کی تعداد میں مرحلہ وار اضافہ کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ بان کی مون کو امید ہے کہ مبصرین کی موجودگی تشدد کو ختم کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

کوفی عنان کے چھ نکاتی منصوبہ میں رہائشی علاقوں سے شامی فورسز کا انخلاء، سیاسی قیدیوں کی رہائی، پرامن مظاہروں کی اجازت، میڈیا کو زیادہ سے زیادہ رسائی، اور جمہوری سیاسی عمل کو شروع کیا جانا شامل ہے۔

مبصرین کا وفد شام میں

شام میں کارکنوں کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے مبصرین کے پہنچنے پر دمشق کے مضافات میں فائرنگ شروع ہوگئی۔

اقوامِ متحدہ کے مبصرین کی ٹیم کے چند ارکان پہلے مرحلے میں دو روز پہلے شام پہنچے اور بدھ کو انہوں نے دمشق کا دورہ کیا۔

انٹرنیٹ پر بھیجی جانے والی وڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ شہر کے شمال مشرقی علاقے الاربعین میں حکومت مخالف مظاہرین نشانہ بازوں کی گولیوں سے بچنے کے لیے گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ کی گاڑیوں کے اطراف لوگوں کا ہجوم دکھایا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ٹیم شام میں فائر بندی کے معاہدے کی نگرانی کررہی ہے جو اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی کوفی عنان کی کوششوں سے ممکن ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ بان کی مون سلامتی کونسل سے درخواست کریں گے کہ مبصرین کی ٹیم کے ارکان کی تعداد تیس سے بڑھا کر دو سو پچاس کی جائے۔

شام کی صورتحال پر تشویش

اسی دوران امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ شام اب ایک انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بدھ کو مبصرین الاربعین کے علاقے میں موجود تھے: احمد فوزی

برسلز میں انہوں نے کہا کہ صدر بشارالاسد کے پاس کوفی عنان کا تیار کردہ امن منصوبہ نافذالعمل کرنے کا آخری موقع ہے جس میں ناکامی کی صورت میں انہیں سخت تر پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔

ہلری کلنٹن نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ شام کی حکومت پر دباؤ بڑھانا ہوگا اور ان پر بھی جو اس حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو میں شامل ہر ملک شام کی صورتحال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔

کوفی عنان کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کو مبصرین الاربعین کے علاقے میں موجود تھے۔

احمد فوزی نے کہا کہ اگر اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ شامی افواج نے علاقے میں فائرنگ کی تو یہ ’ہولناک‘ عمل ہوگا۔

مبصرین کی ٹیم کے سربراہ کرنل احمد حمیش نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ مبصرین فائرنگ کی زد میں نہیں آئے۔ تاہم انہوں نے واقعہ کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

ایک کارکن کی جانب سے انٹرنیٹ پر بھیجی جانے والی وڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک احتجاجی کارکن اقوامِ متحدہ کی گاڑی پر بینر لگا رہا ہے جس پر لکھا ہے ’قاتل قتل کررہا ہے، مبصرین جائزہ لے رہے ہیں، لوگ انقلاب کے لیے کام کررہے ہیں۔‘

اِس فوٹیج کی تصدیق نہیں کی جا سکتی ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی رابطہ کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے قبل طے پانے والے فائربندی کے معاہدے کے باوجود بدھ کو تشدد کے واقعات میں ملک کے مختلف علاقوں میں بتیس افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ سرکاری فورسز اب بھی حمص میں فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ فروری میں سرکاری فوج کی پیش قدمی کے باوجود کئی اضلاع اب بھی سرکاری کنٹرول سے باہر ہیں۔

اسی بارے میں