عام حالات میں ’بہت اچھا‘ شخص ہوں: بریوک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’میری بے حسی ایک طرح سے میرا حفاظتی نظام‘

گزشتہ جولائی ناروے میں ستتر افراد کو ہلاک کرنے والے انرش بہرنگ بریوک نے مقدمے کے دوران عدالت کو بتایا ہے کہ ’عام حالات میں وہ بہت اچھے شخص ہیں۔‘

بریوک نے عدالت کو بتایا کہ سنہ دو ہزار چھ میں وہ دانستہ طور پر بڑے پیمانے پر قتل و غارت کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

انہوں نے لوگوں کو ہلاک کرنے کا اعتراف کیا لیکن کہا کہ انہوں نے ناروے کو کثیرالثقافتی معاشرے سے بچانے کے لیے ایسا کیا۔

جمعہ کے روز عدالت میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے لیے اوسلو میں سرکاری عمارتوں پر بم حملے اہم تھے لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ سرکاری عمارتیں منہدم نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد یوٹویا جزیرے میں لوگوں کی ہلاکت اہم منصوبہ تھا۔

عدالت اس مقدمے میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ آیا بریوک ذہنی طور تندرست ہیں یا نہیں۔ اس مقدمے میں بریوک کہہ چکے ہیں کہ وہ ذہنی طور پر بالکل صحت مند ہیں۔

سماعت کے دوران بریوک نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کیوں لوگوں کو ان تفصیلات سے تکلیف پہنچ رہی ہے۔’یہ وحشیانہ فعل ہے اور میں یہ بات سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کروں گا کہ لوگ کیا محسوس کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کی بے حسی ایک طرح سے ان کا ’حفاظتی نظام‘ ہے بالکل ان فوجیوں کی طرح جو طالبان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔

’میرا بھی کچھ یہی حال ہے۔ میرے لیے ان لوگوں کے لیے کوئی رحم نہیں ہے جن کو میں اپنا ہدف سمجھتا ہوں۔ اگر میرے دل میں ان کے لیے نرم گوشہ ہوتا تو میں ایسا نہیں کرسکتا تھا جو میں نے کیا۔‘

بریوک سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ افسردہ ہوتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا ہاں۔ ’میرے لیے وہ دن نہایت افسردہ تھا جب میرے دوست کے بھائی کی تدفین ہوئی۔‘

بریوک نے مزید کہا کہ ’سنہ دو ہزار چھ سے قبل میں جذباتی طور پر عام شخص تھا۔ میں پہلے لوگوں سے ملتا تھا لیکن پھر میں اکیلا رہنا پسند کرنے لگا اور زیادہ وقت کمپیوٹر گیمز کھیلتا تھا۔‘

بریوک سے پوچھا گیا کہ سنہ دو ہزار چھ میں اپنی والدہ کے ساتھ رہنے لگے تو ان کے تعلقات کیسے تھے، اس پر بریوک نے جواب دیا کہ ہم دن میں ایک یا دو بار بات کرتے تھے۔

اسی بارے میں