فرانس: انتخابی مہم آخری مراحل میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انتخابی جائزوں کے مطابق سوشلسٹ امیدوار فرانسو عولینڈ دائیں بازو کے امیدوار نکولس سرکوزی کو ہرانے کی پوزیشن میں ہیں

فرانس کے صدارتی انتخاب کی مہم آخری مراحل میں پہنچ گئی ہے اور صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹنگ اتوار سے شروع ہوگی۔

فرانس کے دائیں بازو کے صدراتی امیدوار صدر نکولس سرکوزی جمعہ کے روز نیس میں اپنے آخری انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے۔ نکولس سرکوزی دوسری بار صدرات کے لیے دائیں بازو کے امیدوار ہیں۔

سوشلسٹ امیدوار فرانسو عولینڈ اپنی مہم کا آخری جلسہ شارلویں میزیر کے علاقے آردین میں کریں گے۔

انتخابی جائزوں کے مطابق سوشلسٹ امیدوار فرانسو عولینڈ صدارت کے مضبوط امیدوار ہیں اور وہ فرانس پر دائیں بازو کا سترہ سالہ سیاسی غلبہ ختم کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

دائیں بازو کے صدارتی امیدوار نکولس سرکوزی کا اصرار ہے کہ انہیں خاموش اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور انتخابی جائزے ان کی صحیح مقبولیت کو ظاہر نہیں کرتے۔

انتخابی جائزوں کے مطابق پہلے مرحلے میں صدر سرکوزی اور سوشلسٹ امیدوار فرانسو عولینڈ میں کانٹے کا مقابلہ ہوگا ہے لیکن چھ مئی سے شروع ہونے والے دوسرے مرحلے میں سوشلسٹ امیدوار با آسانی جیت جائیں گے۔

انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میرین لی پاں مقبولیت میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ میرین لی پاں تارکین وطن سے متعلق اپنے سخت موقف کے لیے جانی جاتی ہیں۔

انہیں انتخابی جائزوں کے مطابق فرانس کے ایک چوتھائی ووٹر سیاسی وابستگی کے حوالے سے ابھی تک ا پنا ذہن نہیں بنا سکے ہیں۔

صدر سرکوزی اور ان کے مضبوط حریف سوشلسٹ امیدوار فرانسو عولینڈ نے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے تقریباً ایک جیسی ہی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ دونوں امیدوار ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے بچت کی پالیسی کی بجائے پیدوار بڑھانے کی پالیسی کا وعدہ کر رہے ہیں۔

فرانسسی صدارتی انتخابات میں ملک میں بیروزگاری سب سے اہم موضوع ہے۔ فرانس میں اس وقت دس فیصد لوگ بے روزگار ہیں۔

سوشلسٹ امیدوار وعدہ کر رہے ہیں کہ اگر وہ انتخابات میں کامیاب ہوئے تو وہ اپنے دور اقتدار میں ڈیڑہ لاکھ نئی نوکریاں پیدا کریں گے جبکہ نکولس سرکوزی اس بارے میں کوئی تعداد بتانے سےگریز کر رہے ہیں۔

.