شام میں اب بھی حالات نازک: بان کی مون

Image caption شام میں جاری تشدد کے مضطرب کردینے والے ثبوت دیکھے ہیں: بان کی مون

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام میں صورتحال اب بھی ’انتہائی غیر مستحکم‘ ہے۔

اقوامِ متحدہ اور شام کے درمیان ایسے ضوابط پر اتفاقِ رائے ہوگیا ہے کہ جن کے تحت شام میں فائر بندی پر نظر رکھنے کے لیے مبصرین کی تعیناتی کی جائے گی۔

تاہم بان کی مون کا کہنا ہے کہ انہوں نے شام میں جاری تشدد کے مضطرب کردینے والے ثبوت دیکھے ہیں۔

اُدھر پیرس میں ’شام کے دوستوں‘ کاایک اجلاس ہوا جس میں امریکہ اور فرانس نے شامی حکومت کیخلاف سخت موقف اختیار کیا۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے شام کی جانب سے فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں اُس پر اسلحہ فراہم کرنے پر عالمی پابندی سمیت سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس موقع پر فرانسیسی وزیرِ خارجہ الین ژوپے نے کہا کہ شام پر دباؤ بڑھانے کے لیے دیگر طریقوں پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔

شام کے شمالی حصے میں موجود بی بی سی نامہ نگار ائن پینل کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی کئی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک گن شپ ہیلی کاپٹر دیکھا جو جبیل الزاویہ کے علاقے میں گاؤں کے رہائشیوں پر فائرنگ کررہا تھا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔

شام کے دوستوں کے اجلاس میں شریک وزارء خارجہ نے کہا کہ شام میں خانہ جنگی سے بچنے کے لیے کوفی عنان کے چھ نکاتی امن منصوبہ پر عمل کرنے کا شام کی حکومت کے پاس اب آخری موقع ہے۔

ہلری کلنٹن نے کہا اگر شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت مبصرین کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہے تو سلامتی کونسل کی قرار داد کے ذریعے اس پر پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں۔

’شام کے دوستوں‘ کے گروپ میں مغربی اور عرب ممالک شامل ہیں تاہم اس میں روس اور چین شامل نہیں ہیں جنہوں نے ماضی میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے شام پر پابندیاں لگانے کی کوششوں کو روکا تھا۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ان کی روس کے وزیرِ خارجہ سرگئے لوروف سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے شام میں صورتحال کو دگرگوں قرار دیا۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر اقوامِ متحدہ کی جانب سے متعارف کیا جانے والا امن منصوبہ ناکام ہوتا ہے تو شام خانہ جنگی کی راہ پر چل نکلے گا۔

انہوں نے کہا کہ شام میں کئی سو عالمی مبصرین کی ضرورت ہے جبکہ انہوں نے خبردار کیا کہ شام کی صورتحال پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

اسی بارے میں