مصر نے اسرائیل کو گیس کی سپلائی روک دی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسرائیل اور مصر میں یہ معاہدہ سنہ دو ہزار پانچ میں ہوا تھا

مصر کے حکام نے اسرائیل کے ساتھ قدرتی گیس سپلائی کے معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل اپنی گیس کی ضروریات کا چالیس فیصد حصہ مصر سے حاصل کرتا ہے جس میں سے ایک بڑی مقدار بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

مصری حکام کے اس اعلان سے قبل اسرائیل کو گیس مہیا کرنے والی گیس پائپ لائن کئی مرتبہ دھماکوں کو نشانہ بنتی رہی ہے۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مصری حکومت کا یہ اعلان بہت پریشان کن ہے اور اس کے سائے دونوں ملکوں کے درمیان امن معاہدے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

مصر سنہ انیس سو اناسی میں مشرق وسطی میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنے والا پہلا ملک تھا۔ مصر سے اسرائیل کو گیس کی سپلائی دونوں ملکوں کے تعلقات میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مصر کے عوام اسرائیل کے ساتھ اس معاہدے کے سخت مخالف ہیں اور سابق صدر حسنی مبارک پر ایک الزام یہ بھی عائد کر تے ہیں کہ انھوں نے اسرائیل کو گیس انتہائی سستے داموں فراہم کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ مصر کو اس گیس کی مناسب قیمت ادا کر رہا ہے۔

مصر کی گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کو گیس کی سپلائی بند کر رہی ہے کیونکہ گیس سپلائی کرنے کے معاہدے کی کچھ خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔

اسرائیل کی گیس خریدنے والی کمپنی ایمپال کا کہنا ہے کہ وہ اس معاہدے کو منسوخ کرنے کے اقدام کو غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی سمجھتی ہے اور اس کی بحالی کا مطالبہ کرتی ہے۔

اسرائیل کمپنی بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے گیس سپلائی لائن پر ہونے والے حملوں سے گیس کی سپلائی میں تعطل کے باعث ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد سے اب تک اس گیس پائپ لائن پر چودہ حملے ہو چکے ہیں۔

اس علاقے میں آباد مسلح بدو قبائل سے کشیدگی کی وجہ سے بدامنی میں اضافہ ہوا ہے۔