شام: مبصرین کا حمص شہر کا دورہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حمص شہر گزشتہ تیرہ ماہ سے شامی صدر بشار الاسد کے خلاف جاری بغاوت کا مرکز بنا ہوا ہے۔

شام میں اقوامِ متحدہ کے مبصرین نے پہلی مرتبہ شامی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی کے مرکزی شہر حمص کا دورہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ مبصرین نے حمص کے گورنر سے ملاقات کی اور جنگ سے متاثرہ شہر کے مختلف حصوں کے دورے بھی کیے۔

شام میں کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے حمص میں کئی ہفتوں میں پہلی مرتبہ سنیچر کو بمباری روک دی اور ٹینکوں کو منظر عام سے ہٹا دیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ شامی فوج جلد ہی دوبارہ حملے شروع کر دے گی۔

حمص شہر گزشتہ تیرہ ماہ سے شامی صدر بشار الاسد کے خلاف جاری بغاوت کا مرکز بنا ہوا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شام میں جمعے کو بھی تشدد کے واقعات میں کم از کم تئیس افراد ہلاک ہو گئے جن میں دس افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب سڑک کے کنارے نصب بم کے ذریعے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے مبصرین کی جانب سے حمص شہر کا دورہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل شام میں تین سو بین الاقوامی مبصرین کو بھیجنے سے متعلق ایک قرار داد کے مسودے پر متفق ہو گئی ہے۔

اس قرارداد میں روس اور یورپی اتحاد کی تجاویز کو شامل کیا گیا ہے اور مجوزہ قرار داد کے مطابق شام میں فوجی اور سویلین مبصرین ابتدائی طور پر تین ماہ کے عرصے کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں