’سلامتی کونسل مبصرین کی قرارداد پر متفق‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل شام میں تین سو بین الاقوامی مبصرین کو بھیجنے سے متعلق ایک قرار داد کے مسودے پر متفق ہو گئی ہے۔

قرارداد میں روس اور یورپی اتحاد کی تجاویز کو شامل کیا گیا ہے اور اس پر آج سنیچر کو ووٹنگ متوقع ہے۔

دریں اثناء شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعہ کو تشدد کے واقعات میں تئیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

قرارداد میں روس اور یورپی اتحاد کی تجاویز شامل ہیں اور مجوزہ قرار داد کے مطابق شام میں فوجی اور سویلین مبصرین ابتدائی طور پر تین ماہ کے عرصے کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔

اس سے پہلے روس کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز میں کہا گیا تھا کہ مبصرین کو فوری طور پر شام روانہ کیا جائے جبکہ مغربی ممالک کی طرف سے پیش کردہ تجاویز میں میں کہا گیا کہ مبصریں کو اس وقت تک شام نہ بھیجا جائے جب تک شام کی حکومت شہروں اور قصبوں سے فوج اور بھاری اسلحہ نکال نہیں لیتی۔

اقوامِ متحدہ میں فرانس کے سفیر گیراڈ کا کہنا ہے کہ ادارے کی قرار داد پر ووٹنگ ہفتے کو گرینج وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے ہو گی۔

مغربی ممالک نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ اگر شام کی حکومت کوفی عنان کے امن معاہدے کی پاسداری نہیں کرتی تو پھر اس کے خلاف غیر فوجی پابندی عائد کر دی جائے۔

بین الاقوامی برادری شام میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی رسائی چاہتی ہے اور اس حوالے سے جمعہ کو جنیوا میں سفارت کاروں کا ایک اجلاس ہوا۔

اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ شام میں موجود دس لاکھ افراد کو خوارک، دودھ اور دیگر اشیاء پہنچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شام میں جمعے کو تشدد کے واقعات میں کم سے کم تئیس افراد ہلاک ہو گئے۔

رائٹرز کے مطابق تئیس میں سے دس افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب سڑک کنارے نصب بم میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ زیادہ تر ہلاکتیں حمص پر شامی سکیورٹی فورسز کی بمباری کے نتیجے میں ہوئیں۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ارارے کو ایک رپورٹ ارسال کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ شامی حکومت نے امن منصوبے کی پاسداری نہیں کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ شامی حکومت نے حراست میں لیے جانے والے افراد کی رہائی کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی۔

اُدھر پیرس میں جمرات کو ’شام کے دوستوں‘ کے ایک اجلاس میں شریک وزارء خارجہ نے کہا کہ شام میں خانہ جنگی سے بچنے کے لیے کوفی عنان کے چھ نکاتی امن منصوبہ پر عمل کرنے کا شام کی حکومت کے پاس اب آخری موقع ہے۔

’شام کے دوستوں‘ کے گروپ میں مغربی اور عرب ممالک شامل ہیں تاہم اس میں روس اور چین شامل نہیں ہیں جنہوں نے ماضی میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے شام پر پابندیاں لگانے کی کوششوں کو روکا تھا۔

اس سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے شام کی جانب سے فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں اُس پر اسلحہ خریدنے سمیت مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اگرچہ شام میں تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے تاہم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

.

اسی بارے میں