آئی ایم ایف کے فنڈ میں اضافے کا فیصلہ

Image caption اجلاس میں آئی ایم ایف کے فنڈ حاصل کرنے کے ذرائع کو وسعت دینے پر بحث کی گئی

عالمی مالیاتی فنڈ یا آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ نے کہا ہے کہ سنیچر کو واشنگٹن میں ہوئے دنیا کی اہم معیشتوں کے وزراءِ خزانہ کے اجلاس نے عالمی مالیاتی بحران کے خلاف لڑائی میں فیصلہ کن موڑ عبور کیا ہے۔

وزراءِ خزانہ کے اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ معاشی مشکلات سے دوچار ملکوں کو قرضہ دینے کے لیے آئی ایم ایف کے مالی وسائل میں چار سو ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ کیا جائے گا۔

اجلاس کے بعد آئی ایم ایف، اس کی مالیاتی کمیٹی، جی ٹوئنٹی کے وزارءِ خارجہ اور سینٹرل بینک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کو چار سو ارب ڈالر کے فنڈ حاصل کرنے کے موجودہ وسائل بڑھانے کے لیے وعدے کیے گئے ہیں اور یہ اس کے علاوہ ہے جو کوٹہ سنہ دو ہزار دس کی اصلاحات میں طے کیا گیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ وسائل کسی خاص خطے کو نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی تمام ممبران کو حاصل ہوں گے۔

یوروزون مجموعی طور پر دو سو ارب ڈالر کا اپنا حصہ دے رہا ہے جبکہ جاپان آئی ایم ایف کو فنڈ فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے جو اِسے ساٹھ ارب ڈالر فراہم کررہا ہے۔

لیکن اس اجلاس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اب بھی کئی یورپی ملکوں کو مالی طور پر مستحکم ہونے کے لیے دشوار راستے سے گزرنا ہوگا۔

ادھر نیدرلینڈ میں حکومت بجٹ میں سخت کٹوتیوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے جس کے بعد اب خدشات بڑھ رہے ہیں کہ یہ حکومت ختم ہوجائے گی۔

ملک کی تین اہم جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اس بات پر اتفاق نہیں ہوسکا کہ ملک کے بجٹ کے خسارے کو کیسے جی ڈی پی کے تین فیصد سے کم کیا جائے۔

نیدرلینڈز نے یورو زون کے دوسرے ملکوں میں سخت مالی نظم و ضبط کی توثیق کی ہے لیکن اس کے اپنے بجٹ خسارے میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں ملک میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں