بان کی مون: لڑائی بند کریں، مذاکرات کی میز پر آئیں

سوڈان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیر کو سوڈانی جنگی طیاروں نے جنوبی سوڈان کےشہر بینتیو کے قریب بمباری کی تھی

اقواِم متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے جنوبی سوڈان کے سرحدی علاقے میں سوڈان کی بمباری کی مذمت کی ہے۔

سیکریٹری جنرل نے سوڈان کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ہر طرح کے حملے بند کر دے۔انہوں نے کہا کہ دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہوسکتا۔

پیر کو سوڈانی جنگی طیاروں نے جنوبی سوڈان کےشہر بینتیو کے قریب بمباری کی تھی۔

سوڈان کے صدر عمر البشیر نے جنوبی سوڈان کی حکومت سے مذاکرات کو خارج ازامکان قرار دیا تھا۔

مسٹر بشیر نے یہ بات سرحدی شہر ہیگلیگ کے دورے کے دوران کہی تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق اس حملے میں ایک مارکیٹ کو آگ لگ گئی تھی اور ان کے بقول انہوں نے وہاں ایک کم عمر بچے کی لاش بھی دیکھی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے دونوں ممالک کی تیل سے بھرپور متنازع سرحد پر لڑائی جاری ہے جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان جنگ بڑی چھڑ جانے کا خدشہ ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا کہ یہ جھڑپیں جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔

مسٹر بان کی مون نے مسٹر بشیر اور جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیر سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

دوسری جانب امریکی صدر اوباما نے کہا کہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آ کر اپنے مسائل کو پر امن طور پر حل کرنے کی کوشش کریں۔

سوڈان کے فوجی کمانڈر کمال ماروف کا کہنا ہے کہ ہیگلیگ کے لیے جاری لڑائی میں اب تک جنوبی سوڈان کے ایک ہزار فوجی مارے جا چکے ہیں۔

تاہم جنوبی سوڈان کے وزیرِ اطلاعات نے اس بات کی تردید کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی بھی فوجی ہلاک نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں