چین، امریکہ تنازع میں اضافہ کا خطرہ: رپورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اگر چین تنازع کا حل چاہتا ہے تو اسے ایک ’ثابت قدم پالیسی‘ بنانے کی ضرورت ہے: رپورٹ

بین الاقوامی تجزیاتی ادارے انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کے جنوبی سمندر میں چین اور امریکہ کے درمیان تنازع کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تنازع خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن رہا ہے کیونکہ چین، ویتنام اور فلپائن علاقے میں اپنا اثر و رسوخ جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چین میں اس معاملے پر کئی سرکاری ادارے طاقت اور بجٹ کو بڑھانے پر اصرار کررہے ہیں۔

ایسے حالات میں مزید تنازعات پنپنے کے خدشات میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ متنازع علاقوں میں یہ ممالک بغیر کسی قانونی حد بندیوں کے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر چین تنازع کا حل چاہتا ہے تو اسے ایک ’ثابت قدم پالیسی‘ بنانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں مچھلیوں اور تیل اور گیس کے ذخائر سے مالا مال اس بحری علاقے میں کشیدگی کے واقعات میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔

چین اس علاقے کی ملکیت کا دعویدار ہے اور اس معاملے میں اس نے مزید جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے جبکہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔

خطے میں جاری فلپائن اور امریکہ کی سالانہ مشترکہ فوجی مشقوں کی بھی چین نے مذمت کی ہے اور اسے خطرناک دخل اندازی قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی مختلف اداروں کے درمیان ربط کا فقدان اور اختیارات کا الجھاؤ خطے میں کشیدگی بڑھانے کا ایک سبب ہے۔

یہ رپورٹ امریکہ، جاپان، تائیوان، جنوب مشرقی ایشیاء اور چین کے حکام، سفارتکار، صحافی اور سیاحت، تیل اور ماہی گیری کی صنعتوں کے ماہرین کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد تیار کی گئی ہے۔

جنوبی چین کے سمندری خطے کے چھ ممالک اپنی خودمختاری کی حفاظت کی تگ و دو کررہے ہیں جہاں خیال ہے کہ تیل کے خاطر خواہ ذخائر موجود ہیں۔

چین اور فلپائن کے علاوہ ان میں برونائی، ملائشیاء، ویتنام اور تائیوان شامل ہیں۔

اسی بارے میں