مصر: سابق صدر کے ساتھی صدارتی انتخاب سے باہر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مصر میں حکمران فوجی کونسل نےایک ایسے قانون میں ترمیم کی منظوری دی ہے جس کے تحت گزشتہ دس سالوں کے دوران حکومت میں شامل افراد صدراتی انتخاب نہیں لڑ سکیں گے۔

اس قانون کی منظوری کے بعد مصر کے سابق وزیرِ اعظم احمد شفیق بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس سے پہلے مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے دور میں انٹیلجنس کے سربراہ عمر سلیمان، اخوان المسلمین کے امیدوار خیرات الشاطر اور سلفی رہنما اسماعیل ابو حازم پہلے ہی نا اہل قرار دیے جا چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مصر کے قانون میں کی جانے والی ترمیم جمعرات کو شائع ہو سکتی ہے جب انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی حتمی فہرست کا اعلان کیا جائے گا۔

مصر کے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترمیم کو بعد میں شائع کیا گیا تواس صورت میں امیدواروں کی فہرست پر اثر نہیں پڑے گا جس کی وجہ سے سابق وزیرِ اعظم احمد شفیق اگلے ماہ ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔

واضح رہے کہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے نائب صدر اور خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ عمر سلیمان کو مختلف وجوہات کی بِنا پر پہلے ہی انتخابات میں حصہ لینے پر نا اہل قرار دیا جا چکا ہے۔

مصر کے قانون میں ترمیم کے بعد حسنی مبارک کے دورِ حکومت میں سینئیر عہدوں پر کام کرنے والے افراد صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے۔

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو گزشتہ برس فروری میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا تھا۔

مصری قانون میں ترمیم، ملک کے سابق ائیر فورس کمانڈر اور کابینہ کے وزیر احمد شفیق، جنہیں سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے آخری دنوں میں وزیرِ اعظم مقرر کیا گیا تھا، کو نااہل قرار دے گی۔

مصر کے سرکاری اخبار ’االحرم‘ کے مطابق جرنیلوں نےقانون میں کی جانے والی ترمیم کی توثیق کے بعد اس کی منظوری کے لیے پارلیمان کو بھیج دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر ترمیم کو مصر کے ہائیر صدارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے جمعرات کو امیدواروں کی حتمی فہرست کے اعلان سے پہلے شائع کیا گیا تو اس صورت میں احمد شفیق نا اہل ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں