یورپ میں مسلمانوں کو تعصب کا سامنا

آخری وقت اشاعت:  منگل 24 اپريل 2012 ,‭ 14:55 GMT 19:55 PST

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایسے مسلمان جو اپنے عقیدے کا اظہار کرتے ہیں، انہیں یورپ میں تعصب کا زیادہ سامنا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یورپی حکومتوں سے استدعا کی ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے تعصب کو کم کرنے کے لیے مذید اقدامات کریں۔

ایمنسٹی کے مطابق دفتروں میں کام اور تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے مسلمان طلباء کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق لباس پہننے کی وجہ سے تعصب کا شکار ہونا پڑتا ہے اور ایسے مسلمانوں کے لیے نوکریوں میں مواقع کم ہو جاتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے کچھ یورپی ممالک میں مسلمان خواتین کے نقاب پہننے پر عائد پابندی پر بھی تنقید کی ہے۔

تنظیم کے گروپ سپیشلسٹ مارکو پرولینی کا کہنا ہے کہ مسلمان خواتین کو نوکریاں اور لڑکیوں کو سکولوں میں ریگولر کلاسز میں شریک ہونے سے صرف اس لیے روکا جا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے مذہبی عقائد کی وجہ حجاب کرتی ہیں جبکہ مسلمان مردوں کو داڑھیاں رکھنے کی وجہ سے نوکریوں سے برخاست کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق مذہب اور ثقافت کا علامتی لباس پہننا آّزادی اظہار کے زمرے میں آتا ہے اور یہ حق تمام عقائد کے افراد کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بیلجئیم، فرانس، ہالینڈ اور سپین میں کچھ مسلمان خواتین کے نقاب کرنے پر عائد پابندی کا ذکر کیا گیا۔

اپنی رپورٹ میں ایمنسٹی نے متعدد ممالک کے ان قوانین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جن کے مطابق طالبات کو سکولوں میں سکارف پہننے سے منع کیا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق خاص حالات کے علاوہ چہرے پر مکمل نقاب کرنے کو سکیورٹی رسک قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔