شمالی اور جنوبی کوریا کے باسیوں میں قد کا فرق

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اکثر اوقات یہ بات سامنے آئی ہے کہ شمالی کوریا کے باسیوں کے قد ہمسایہ ملک جنوبی کوریا میں رہنے والوں کے مقابلے میں چند انچ چھوٹے ہیں۔ حالانکہ جینیاتی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو سرحد کے دونوں طرف رہنے والے ایک ہی لوگ ہیں۔

جنوبی کوریا کے شہر سیول میں سنگکیوں کوان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈینیل شویکینڈائک نے شمالی کوریا سے سرحد کے اس پار آنے والے پناہ گزینوں کا مطالعہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے مرد جنوبی کوریا کے مرد حضرات سے قد میں اوسطاً تین سے آٹھ سینٹی میٹرچھوٹے ہیں۔ اسی طرح جنوبی کوریا کے بچوں کے قد بھی شمالی کوریا کے بچوں سے چھوٹے ہیں۔

ان کے بقول ’سکول جاتے لڑکوں میں قد کا قرق تقریباً چار سینٹی میٹر ہے اور لڑکیوں میں تین سینٹی میٹر۔‘

اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مارٹن بلیوم جو شمالی کوریا میں سنہ انیس سو پچانوے سے خوراک تقسیم کرنے کا کام سرانجام دے رہے ہیں کہتے ہیں کہ ابتدائی زندگی میں غذا کی کمی کی وجہ سے نشوونماء متاثر ہوتی ہے۔

ان کے مطابق ’خوراک سمیت زندگی کے پہلے دو سال میں جو کچھ بھی بچوں کے ساتھ ہوتا ہے وہ ان کے قد کے لیے فیصلہ کن ہے۔‘

واضح رہے کہ انیس سو نوے کی دہائی میں شمالی کوریا شدید قحط سالی کا شکار رہا۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق شمالی کوریا میں ہر تیسرے بچے کی نشو نما صحیح سے نہیں ہو رہی یعنی ان کا قد ان کی عمر کے حساب سے چھوٹا رہ جاتا ہے۔

دوسری جانب جنوبی کوریا میں تیزی سے اقتصادی ترقی ہوئی ہے اور بلیوم کے بقول ’قد زیادہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ اقتصادی ترقی ہے۔‘

سو جہاں جنوبی کوریا کے لوگوں کے قد میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں شمالی کوریا کے باسیوں کے قد کم ہو رہے ہیں۔

پروفیسر شویکینڈائک کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا میں مہاجرین جنوب کے ہر علاقے اور طبقے سے آتے ہیں اس لیے اعداد و شمار کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے بقول انہوں نے شمالی کوریا کی حکومت اور عالمی اداروں سے بھی اعداد و شمار اکٹھے کیے ہیں جو ان کی دریافت سے ملتے جلتے ہیں۔

قد کے اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نہایت المناک حقیقیت سامنے آتی ہے۔ اور وہ یہ کہ جیسے جیسے جنوبی کوریا کے لوگ دولت مند اور قد میں لمبے ہوتے جا رہے ہیں وہیں شمالی کوریا والے نامکمل نشوونماء کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں