یوکرینی خواتین کا’بامقصد‘ ننگاپن

حقوق نسواں کے لیے نیم برہنہ احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ AP

یوکرینی خواتین کے ایک گروپ نے دارالحکومت کِیوسمیت کئی یورپی شہروں میں نیم برہنہ احتجاج کیا ہے جس کا مقصد حقوق نسواں کی جانب توجہ مبذول کرانا تھا۔

اپنی نوعیت کا یہ انوکھا احتجاج نہ صرف یوکرین کے دارالحکومت کِیو میں کیا گیا بلکہ استنبول، برسلز، روم، منسک، موسکو اور کئی دوسرے یورپی شہروں میں ہوا اور اس کا اہتمام فیمن نامی حقوق نسواں کے علمبردار گروپ نے کیا تھا۔

یوکرین کے دارالحکومت کِیو میں اس احتجاج کے دوران پانچ نیم برہنہ لڑکیاں شہر کے مشہور سینٹ صوفیہ کیتھیڈرل کے بیل ٹاور پر چڑھ گئیں۔ گیارہویں صدی عیسوی کے اس گرجا گھر کو مشرقی آرتھوڈوکس کلیسا کے مقدس ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔

اجتجاج کرنے والی لڑکیوں نے ٹاور کے گھنٹے بجائے اور ایک بینر لہرایا جس پر یوکرینی پارلیمان کے اس بل کے خلاف نعرے درج تھے جو اسقاط حمل کے خلاف قانون بنانے کے لیے جمع کرایا گیا ہے۔

اس گروپ کو حقوق نسواں کے حوالے سے بہت سے معاملات پر تشویش ہے اور وہ ان معاملات پر اپنی آواز بلند کرتا رہتا ہے۔ مثلاً آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے اس گروپ نے تیزاب سے جھلسنے والی خواتین سے اظہار یکجہتی کے لیے اپنے برہنہ جسموں پر ایسا پینٹ کروا کے احتجاج کیا تھا جو تیزاب سے جلنے والی خواتین کے زخموں سے مشابہت دکھا رہا تھا۔

فیمن کا کام دنیا میں خاصی تیزی سے پھیلا ہے اور اب پوری دنیا میں فیمن کے پاس نیم برہنہ احتجاج کرنے والی چالیس خواتین کارکنان اور مزید تین سو ایسی خواتین ہیں جو احتجاج کے لیے باقی معاونت فراہم کرتی ہیں مثلاً بینروں وغیرہ کی تیاری اور نعرے لکھنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

یہ گروپ یوکرین اور پولینڈ میں سن دوہزار بارہ کے فٹبال مقابلوں سے پہلے خاص طور پر متحرک ہے کیونکہ گروپ کو خدشہ ہے کہ مختلف یورپی ملکوں سے شائقین کی آمد سے جسم فروشی اور جنسی سیاحت میں اضافہ ہوگا۔

فیمن کی ارکان کے احتجاج کا نتیجہ اکثر گرفتاری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور ایسا ہی اس بار یوکرین ، روس اور ترکی میں بھی ہوا۔ پچھلے برس بیلاروس میں گروپ نے منسک میں خفیہ ادارے کے جی بی کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد احتجاج کرنے والی نیم برہنہ لڑکیوں کو نامعلوم لوگوں نے پکڑ لیا تھا اور ان پر جنسی تشدد کی دھمکیاں دی تھیں۔

ایک طرف اگر فیمن کے اس نوعیت کے احتجاج کو صحافیوں اور فوٹوگرافروں کی بھرپور توجہ ملتی ہے تو دوسری جانب بہت سے حلقوں میں فیمن کے طریقۂ کار پر خاصی تنقید کی جاتی ہے مثلاً کِیو میں سینٹ صوفیہ کے گرجا گھر پر نیم برہنہ احتجاج کو بہت سے مقامی لوگوں نے شدید دھچکے سے تعبیر کیا ہے۔

لیکن اس سب کے باوجود فیمن کی مقبولیت خاصی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کے ارکان کے خیال میں جلد ہی گروپ اپنی سرگرمیاں جاپان، چین، برازیل، امریکہ ، آسٹریلیا اور براعظم افریقہ میں بھی شروع کرسکے گا۔

اسی بارے میں